قائداعظم یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت

قائداعظم یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت


قائمہ کمیٹی سینٹ کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے قائداعظم یونیورسٹی کو بھٹو سے منسوب کرنے کی مخالفت کر دی‘ نام تبدیل نہ کرنے پر رضامندی بل کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس 4 مارچ کو طلب کر لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور جے یو آئی سمیت دیگر ارکان نے جس طرح بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح سے اپنی والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا ہے وہ پوری قوم کے احساسات کا ترجمان ہے۔
بعض عاقب نااندیش افراد نے جب قائداعظم یونیورسٹی کا نام ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی رکھنے کی تجویز دی تھی اسی دن سے محب وطن عوام اور سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے اس کی بھرپور مخالفت سامنے آئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی یعنی پاکستان بنانے والی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کا یہ عظیم احسان سارے پاکستانیوں پر تا ابد رہے گا کہ انہوں نے ایک طویل معرکہ خیز جدوجہد کے بعد یہ وطن حاصل کیا۔
 اگر مسلمانوں کو ان کی زیرک قیادت میسر نہ آتی تو آزادی کی منزل ہمیں اتنی جلد نہ ملتی وہ ناصرف معمار پاکستان بلکہ بابائے قوم بھی ہیں۔ آپ کا مصور پاکستان سے بھی بڑا نام ہے‘ حضرت علامہ نے تصور پیش کیا اور اس کو عملی شکل دینے کیلئے قائداعظم کو ہی تلاش کرکے قوم کی قیادت کیلئے آمادہ کیا۔
 ذوالفقار علی بھٹوذہین سیاستدان اور ایٹمی پروگرام کے معماروں میں سے تھے مگر ان کو قائداعظم کا درجہ دینا مناسب جوڑ نہیںکیونکہ وہ جو کچھ بھی تھے اسی پاکستان کی بدولت تھے جس کے بانی قائداعظم ہیں۔