دہشتگردوں کے افغانستان سے آنے کا ٹھوس ثبوت موجود ہے تو عالمی قیادتوں کو اس سے مکمل آگاہ کیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
دہشتگردوں کے افغانستان سے آنے کا ٹھوس ثبوت موجود ہے تو عالمی قیادتوں کو اس سے مکمل آگاہ کیا جائے

زرعی ڈائریکٹوریٹ پشاور میں عید میلادالنبی کے روز دہشتگردی کی گھنائونی واردات اور کے پی کے حکومت کا کم نقصان پر اظہارِاطمینان


پشاور میں عید میلادالنبی کے روز زرعی ڈائریکٹوریٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجہ میں چھ طلبہ سمیت 9‘ افراد شہید اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ فورسز نے اپریشن کرکے پانچوں حملہ آور دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعۃ المبارک کی صبح جب اسلامیانِ پشاور نبیٔ آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت پر جشنِ میلادالنبی کی تیاریوں میں مصروف تھے‘ تین نقاب پوش مسلح افراد نے ایک رکشے سے اترتے ہی زرعی یونیورسٹی پشاور کے قریب واقع ڈائریکٹوریٹ جنرل زراعت خیبر پی کے کے مرکزی گیٹ پر تعینات سکیورٹی اہلکار پر فائر کھول دیا اور اسکے زخمی ہو کر گرتے ہی یہ حملہ آور ڈائریکٹوریٹ کے اندر گھس گئے اور فائرنگ شروع کردی۔ اس واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس‘ ایف سی‘ افواج پاکستان اور دوسرے سکیورٹی اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور مسلح افراد کیخلاف اپریشن کا آغاز کردیا۔ اس دوران فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ فورسز نے چند گھنٹوں کے اپریشن میں ڈائریکٹوریٹ میں موجود تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جن سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ اس میں بارودی مواد کے علاوہ 20 ہینڈگرنیڈ اور تین خودکش جیکٹس بھی شامل تھیں جنہیں دہشت گرد استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ دہشت گردوں کے اس حملے سے ڈائریکٹوریٹ کے اندر چھ طلبہ سمیت 9 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے اپریشن کے دوران تین دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ ایس ایس پی اپریشنز سجاد خان نے ایک نجی ٹی وی کو بتایا کہ اپریشن میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ انکے بقول دہشت گرد شٹل کاک برقعے پہن کر رکشے کے ذریعے ڈائریکٹوریٹ آئے تھے جنہوں نے خودکش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں تاہم سکیورٹی فورسز کے بروقت پہنچنے کے باعث وہ زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آئی جی کے پی کے صلاح الدین محسود کے بقول خطے کی موجودہ صورتحال میں دہشت گرد آسان اہداف کی طرف جاتے ہیں لہٰذا اس طرح کے واقعات ایک ممکنہ امر ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے بعد وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے اس دہشت گردی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اب کے پی کے پولیس ایک فورس بن گئی ہے جس نے کئی دہشت گرد کارروائیاں ناکام بنائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کو ہر صورت ختم کرنا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ سابق صدر آصف علی زرداری‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے زرعی ڈائریکٹوریٹ میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے بڑے جانی و مالی نقصان سے بچالیا ہے۔ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشاور دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ آئی جی پولیس کے پی کے صلاح الدین محسود نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کے حملے میں 12‘ افراد شہید ہوئے ہیں جن میں چھ طلبہ ایک سکیورٹی گارڈ اور پانچ شہری شامل ہیں۔
ان سفاک حملہ آوروں نے دہشت گردی کی گھنائونی واردات کیلئے جس مقدس دن کا انتخاب کیا اور ایک تعلیمی ادارے کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا‘ وہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ دہشت گردی کی گھنائونی وارداتیں کرنیوالے ان سفاک انسانوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ورنہ وہ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کو انسانی خون بہانے کیلئے کبھی منتخب نہ کرتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور آئی جی پولیس کے پی کے کے بقول ان دہشت گردوں کے افغانستان میں موجود اپنے سہولت کاروںکے ساتھ رابطے تھے اور ایک دہشت گرد کے موبائل فون پر دہشت گردی کی واردات کے دوران وٹس ایپ کال بھی افغانستان سے آئی جو اس کا بین ثبوت ہے کہ ہمارے خلاف افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ آئی جی کے پی کے نے اگرچہ کسی ملک کا نام لئے بغیر دہشت گردی کی وارداتوں میں بیرونی ایجنسیوں کے عمل دخل کا تذکرہ کیا تاہم اس میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہی ایجنسی افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی تربیت اور فنڈنگ کرکے انہیں افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کراتی ہے جس کے ہمارے سکیورٹی اداروں کے پاس پہلے ہی ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ جب اس امر کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ زرعی ڈائریکٹوریٹ پشاور پر حملہ آور ہونیوالے دہشت گردوں کے افغانستان میں اپنے سہولت کاروں کے ساتھ رابطے تھے تو ان سہولت کاروں کا بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ سے ہی تعلق ہو سکتا ہے جس کا حاضر سروس جاسوس دہشت گردکلبھوشن پہلے ہی پاکستان میں دہشت گردی کرنیوالے ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرچکا ہے۔
دہشت گردی کی گزشتہ روز کی واردات کے حوالے سے کے پی کے حکومت‘ آئی جی پولیس کے پی کے اور پاک فوج کے ترجمان کا یہ کہنا اپنی جگہ کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے دہشت گردوں کا بھاری جانی نقصان پہنچانے کا منصوبہ ناکام بنادیا گیا ہے تاہم یہ امر بھی کے پی کے حکومت اور سکیورٹی اداروں کیلئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے کہ دہشت گرد بھاری اسلحہ بشمول ہینڈ گرنیڈز سمیت آسانی کے ساتھ اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہدف زرعی ڈائریکٹوریٹ تک پہنچ گئے اور ڈائریکٹوریٹ کے اندر گھس کر اپنے منصوبہ کے عین مطابق دہشت و وحشت کا بازار گرم کرتے ہوئے چھ طلبہ سمیت 9‘ افراد کو شہید کردیا جبکہ آئی جی کے بقول شہید ہونیوالوں کی تعداد 12 ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کی اس واردات میں 30 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے اور ڈائریکٹوریٹ کی عمارت کا تہس نہس ہوگیا۔ کیا یہ کم نقصان ہے کہ سکیورٹی ادارے اور کے پی کے حکومت زیادہ نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کررہی ہے۔ آئی جی کے پی کے زرعی ڈائریکٹوریٹ کو دہشت گردوں کیلئے آسان ہدف قرار دے رہے ہیں تو دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے سکیورٹی اداروں کی حکمت عملی کے حوالے سے یہ لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ سفاک دہشت گردوں نے 16‘ دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور میں انتہائی سفاکانہ طریقے سے سکول کے معصوم طلبہ‘ اساتذہ اور خاتون پرنسپل سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو شہید کیا تھا جس کے بعد تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کا تو خصوصی انتظام کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر تین مسلح دہشت گرد ایک رکشے پر سوار ہو کر بھاری اسلحہ سمیت زرعی ڈائریکٹوریٹ تک پہنچ گئے تو یہ ہمارے سکیورٹی اداروں میں موجود لیپس کا ہی شاخسانہ ہے جنہیں دور کرنے کا دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد رسمی طور پر عہد تو کیا جاتا ہے مگر عملاً یہ لیپس آج بھی موجود ہیں۔
جب ہمارے حکمرانوں اور سکیورٹی اداروں کو اس امر کا ادراک ہے کہ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں ہماری سرزمین پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جس کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو اعلانیہ اعتراف بھی کرچکے ہیں جبکہ بھارتی ایماء پر کابل انتظامیہ بھی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی سہولتیں فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تو دہشت گردوں کے پھیلائے گئے نیٹ ورک کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو انکے آسان اہداف میں کیونکر شامل کرلیا گیا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات تو تعلیمی اداروں اور سکیورٹی کے مراکز پر خصوصی سکیورٹی کے متقاضی ہیں۔ اگر ہم ایسے ’’آسان‘‘ اہداف میں سفاک دہشت گردوں کی کارروائی میں 9 یا 12‘ افراد کی شہادتوں اور 30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے پر اس تناظر میں مطمئن ہوں کہ بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کا بھاری جانی نقصان کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے تو ایسی سوچ پر سر پیٹنے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ اگر افغانستان سے سرحد عبور کرکے پاکستان میں گھسنے والے دہشت گردوں نے گزشتہ اڑھائی تین ماہ سے بلوچستان اور خیبر پی کے میں سرعت اور تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو یہ صورتحال دہشت گردوں کی سرکوبی کے ٹھوس اور جامع اقدامات اٹھانے کی متقاضی ہے۔ آئی جی کے پی کے کے دعوے کے مطابق پچھلے سات ماہ کے دوران کے پی کے پولیس نے 70 دہشت گردوں کو ہلاک اور 419 کو گرفتار کیا ہے جبکہ رواں سال کے دوران تین لاکھ 36 ہزار 965 مکانوں کی تلاشی لی گئی اور گیارہ ہزار 492 افراد کیخلاف مقدمات درج کئے گئے۔ انکے بقول کے پی کے میں پولیس نے 70 ہزار سکولوں کو اپنی سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے تو کیا محض ایسے ہدایت ناموں کی بنیاد پر سکیورٹی انتظامات پر مطمئن ہو کر خواب خرگوش کے مزے لینا شروع کردیئے جائیں؟ سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے ایسے اطمینان سے ہی سفاک دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں جن کا ایجنڈہ بہرصورت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ہے۔ اگر دہشت گرد گزشتہ ماہ 24 نومبر کو حیات آباد پشاور میں خودکش حملے کی واردات کرکے ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹر محمد اشرف نور کو شہید کرچکے ہیں تو اس گھنائونی واردات کے محض ایک ہفتے کے بعد دہشت گردوں کا زرعی ڈائریکٹوریٹ پر پوری سہولت کے ساتھ حملہ آور ہونا کے پی کے حکومت اور سکیورٹی اداروں کیلئے کم نقصان کے حوالے سے اطمینان کا باعث ہونا چاہیے یا لمحۂ فکریہ؟
جب ہمیں ادراک ہے کہ ہمارا مکار دشمن ہماری سالمیت کے درپے ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کیلئے اس نے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کو خطیر رقم بھی فراہم کی ہوئی ہے تو ہمیں یہ چیلنج قبول کرکے دشمن کی سازشیں ناکام بنانے کی اندرون ملک بھی اور بیرون ملک سفارتی سطح پر بھی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگر ہمارے سکیورٹی ادارے یہ تصور کئے بیٹھے رہیں گے کہ دہشت گرد اب اپنے آسان اہداف ڈھونڈ رہے ہیں تو پھر ان کیلئے دہشت گردی کا ہر ہدف آسان ہدف بن جائیگا۔