شاہ عبداللہ کھل کر فلسطینیوں کی مدد کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
شاہ عبداللہ کھل کر فلسطینیوں کی مدد کریں

اسرائیل نے 72 گھنٹے کیلئے ہونیوالی جنگ بندی 4 گھنٹے بعد ہی توڑ دی۔ بمباری اور گولہ باری سے مزید 120 فلسطینی شہید ہو گئے۔ 25 روز میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1555 ہوگی۔ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں پر عالمی برادری کی خاموشی جنگی جرم ہے۔اسرائیل کی 25 روز سے غزہ پر جاری بمباری کا ہدف کسی علاقے کو فتح کرنا مقصود نظر نہیں آرہا بلکہ اس بمباری سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ اقوام عالم اسرائیل کی جارحیت پر سراپا احتجاج ہے۔ یورپ میں بھی عوام احتجاجی جلسے جلوس کر رہے ہیں‘ لیکن مسلم امہ کو جن پر تکیہ تھا‘ ان کے ہاں احتجاج نظر آیا نہ ہی انہوں نے کھل کر مذمت کی ہے۔ 1550 افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ اسرائیل کی کارپٹ بمباری سے فلسطینی کالونی ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ بیت حانون کی ہنستی مسکراتی کالونی پر بارود کی بارش کرکے اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے‘ لیکن بربریت کی کھل کر مذمت کرنے یا فلسطینیوں کی عسکری مدد کرنے کے بجائے خادم حرمین شریفین نے ماشا اللہ صرف مذمت سے کام لیکر اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر تو اقوام متحدہ کے ترجمان کو ہی دکھ ہوا جو بچوں کے قتل عام پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ شاہ عبداللہ اگر امت مسلمہ کو جگاتے‘ ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کا نمائندہ بن کر جرأت دکھا دیتے تو ساری مسلم امہ انکے پیچھے کھڑی ہوتی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اقوام متحدہ بحیثیت ادارہ فعال کردار ادا نہیں کر رہا۔ لیکن 58 اسلامی ممالک کی حیثیت بھی اس وقت ایک جزو معطل کی مانند ہے۔ اگر یہی ممالک مخلص ہوں تو دنیا میں کسی بھی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ خادم حرمین شریف فلسطینیوں کی مدد کیلئے ایک لیڈر کی طرح آگے بڑھیں اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام بند کروائیں اور مسلمانوں کی توقعات پر پورا اتریں۔