خلاف ضابطہ تقرریاں ختم کی جائیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
خلاف ضابطہ تقرریاں ختم کی جائیں

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے ساتھ مختلف اداروں کے سربراہوں کی تقرریوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو لکھے گئے خط میں درخواست کی گئی ہے کہ ان تمام غیر قانونی تقرریوں کو ختم کرنے کے فوری احکامات جاری کئے جائیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پنجاب حکومت کو قواعد و ضوابط کے مطابق معاملات حکومت چلانے پر شاباش دی تھی جس پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بہت خوشی کا اظہار کیا تھا لیکن اب اسی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بڑے میاں صاحب کو خلاف قواعد تقرریاں کرنے پر ڈانٹ دیا ہے۔ ایک بھائی کو تھپکی دوسرے کو آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں۔ حکومت کو سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں میرٹ کے خلاف نہیں کرنی چاہئیں۔اس سے تو نااہل آدمی سامنے آئینگے جبکہ اہل اور حقدار اپنی صلاحیتیں لیکر بیٹھے رہیں گے۔ حکومت نے تقرریوں کیلئے فیڈرل سروس کمیشن اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ادارے خود ہی بنائے ہیں۔ انہیں ان اداروں پر اعتماد بھی کرنا چاہئے‘ اگر بڑے محکموں میں بغیر کسی پراسس کے نااہل آدمی بیٹھ گئے۔ تو یہ نااہل آدمی حکومت کیلئے ہی بدنامی کا باعث بنیں گے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے خزانہ اور دیگر وزارتوں میں جہاں خلاف ضابطہ تقرریوں کی نشاندہی کی ہے۔ وزیراعظم ان تقرریوں کو کالعدم قرار دیکر خادم پنجاب کی طرح شاباش لیں۔ 18ویں گریڈ کے افسر کو آپ 21 گریڈ کے آفیسر کے اوپر لگائیں گے تو دونوں میں کشمکش رہے گی اختیارات کی کھینچا تانی میں ادارے کو نقصان ہو گا۔ جو حکومت کیلئے بدنامی کا باعث بنے گا۔ 12 جون 2013ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں تقرریوں کے حوالے سے ایک ضابطہ بنایا گیا ہے۔ اسکی پیروی کریں اور نااہل افراد کو بڑے عہدے پر بیٹھا کر جگ ہنسائی سے بچیں۔