سابق وزیر کے بیٹے کی فائرنگ سے نوجوان کا قتل وزیر اعلیٰ کیلئے ٹیسٹ کیس

ایڈیٹر  |  اداریہ
سابق وزیر کے بیٹے کی فائرنگ سے نوجوان کا قتل وزیر اعلیٰ کیلئے ٹیسٹ کیس

عام آدمی کو دہلیز پر انصاف کی فراہمی بڑا چیلنج ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی ہائیکورٹ بار کے عہدیداروں سے گفتگو۔ لاہور میں سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے کی فائرنگ سے نو عمر طالب علم جاں بحق۔
لاہور ہائیکورٹ بار کے عہدیداروں سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے گفتگو کرتے ہوئے جس بڑے چیلنج کر ذکر کیا ہے وہ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی ہے حقیقت بھی یہی ہے اور اس کی راہ میں حائل دشواریوں کو ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب تھانوں سے لیکر عدالتوں تک میں انصاف بکتا ہو۔ پیسے والے لوگ قانون اور انصاف کی بولی لگاتے ہوں تو اس ماحول میں زردار طبقے صاف بچ نکلتے ہیں اور بے زر عوام برسوں عدالتوں کے دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔ اگر قانون کی عملداری یقینی بنائی گئی ہوتی تو جو صورتحال آج ملک کے اندر درپیش ہے یہ اتنی بری نہ ہوتی۔کراچی میں بااثر افراد کے بیٹوں کے ہاتھوں قتل ہونیوالے نوجوان کے ورثاء کے بعد اب گزشتہ روز سابق وزیر مملکت کے بیٹے ہاتھوں لاہور میں قتل ہونے والے نویں جماعت کے طالبعلم کی بیوہ ماں بھی ہر قیمت پر اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل پر انصاف اور مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دیکھنا ہے کیا ماضی میں یا بڑے گھرانوں کے بگڑے رئیس زادوں کے ہاتھوں قتل ہونیوالے خاک نشینوں کے خون کی طرح یہ خون بھی رزق خاک ہو جائیگا یا اسکے ملزم سزا پائیں گے وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ روز عام آدمی کو دہلیز پر انصاف مہیا کرنا اپنا چیلنج بنایا ہے تو گزشتہ روز کا وقوعہ ان کیلئے ٹیسٹ کیس ہے۔ وہ اپنی ذاتی نگرانی اور دلچسپی سے اس میں کامیاب ہو کر غمزدہ ماں اور اہل وطن کی دعائیں لے سکتے ہیں۔پولیس نے گزشتہ روز ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ وزیراعلیٰ ایسے اقدامات اٹھائیں کہ اس بگڑے رئیس زادے کو پولیس کے کرپشن کلچر میں کوئی رعایت نہ مل سکے۔