جوڈیشل کمیشن معاہدے پر دستخط پی ٹی آئی اب اپوزیشن کی تعمیری سیاست کرے

ایڈیٹر  |  اداریہ
جوڈیشل کمیشن معاہدے پر دستخط پی ٹی آئی اب اپوزیشن کی تعمیری سیاست کرے

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین جوڈیشل کمیشن کے قیام پر طے پانے والے سمجھوتے پر گزشتہ روز دونوں پارٹیوں کے نمائندوں نے دستخط کر دئیے۔ حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار اور اقبال ظفر جھگڑا جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور اسد عمر نے دستخط کئے۔ اس معاہدے کے بعد اب صدر مملکت کے دستخطوں کیساتھ جوڈیشل کمیشن سے متعلق آرڈیننس جاری کیا جا رہا ہے جسکے تحت جوڈیشل کمیشن انتخابی دھاندلیوں کے معاملہ کی 45دن کے اندر تحقیقات مکمل کریگا۔ اگرچہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے آئینی اور قانونی پیچیدگیاں برقرار ہیں جس کی بنیاد پر آئینی ماہرین اس مجوزہ کمیشن کی تشکیل ماورائے آئین اقدام کے مترادف قرار دیتے رہے ہیں اسکے باوجود طاہرالقادری اور عمران خاں کی دھرنا تحریک کی پیدا کردہ سیاسی کشیدگی ختم کرنے کیلئے حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق پی ٹی آئی کے تقاضوں کے آگے سرتسلیم خم کیا اور زیادہ تر پی ٹی آئی کی شرائط پر ہی اس کمیشن کی تشکیل پر آمادگی کا اظہار کیا۔ گزشتہ ماہ دونوں پارٹیوں کے مابین جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم اسی دوران عمران خاں اور انکے پارٹی عہدیدار عارف علوی کے مابین پی ٹی وی عمارت پر حملے سے متعلق ٹیلی فونک گفتگو کی ٹیپ منظر عام پر آ گئی جس سے صورتحال میں پھر کشیدگی پیدا ہو گئی اور دونوں پارٹیوں کے قائدین کی ایک دوسرے کیخلاف الزام تراشیوں سے جوڈیشل کمیشن کا معاملہ سردخانے میں جاتا نظر آیا تاہم اب حکومت اور پی ٹی آئی دونوں نے معاملہ فہمی سے کام لیکر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے عملی پیش رفت کی ہے جس کیلئے پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور دوسری پارلیمانی پارٹیوں کے قائدین پر مشتمل سیاسی جرگے کو بھی کریڈٹ جاتا ہے جبکہ حکومت نے خود بھی اس معاملہ میں وسیع الظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مجوزہ جوڈیشل کمیشن اب دھاندلیوں سے متعلق پی ٹی آئی کے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہی انکوائری کریگا اور ممکن ہے حکومت کو اس انکوائری میں نقصان بھی اٹھانا پڑے تاہم جوڈیشل کمیشن کے ذریعے انتخابی دھاندلیوں کے ذرائع اور لوازمات و محرکات کی نشاندہی ہو جاتی ہے تو اس سے آئندہ کیلئے دھاندلیوں سے پاک اور شفاف انتخابات کی ضمانت مل جائیگی جو پوری قوم کا مطمع نظر ہے۔ یہ تقاضہ تسلیم ہونے کے بعد اب پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی سیاسی انتشار کا باعث بننے والی اپنی روائتی ہٹ دھرمی کی سیاست سے رجوع کر لینا اور پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں واپس آ کر اپوزیشن کا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ جمہوریت کی گاڑی سبک خرامی سے چلتی رہے۔ عمران خاں کا اپنا سیاسی مستقبل بھی جمہوریت کے ساتھ ہی وابستہ ہے اس لئے انہیں جمہوریت کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دینی چاہئے۔