جنگ یمن‘ کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ کیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
 جنگ یمن‘ کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ کیا جائے

سعودی حکومت نے باقاعدہ طور پر یمن کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان سے پاک فوج کی مدد طلب کر لی۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق ریاض میں سعودی حکام نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطی، یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی اور سرحدوں کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سعودی حکام نے پاکستان سے یمن کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی مدد کی خواہش کی ہے اور کہا ہے کہ یمن میں باغیوں کیخلاف زمینی کارروائی اور سعودی عرب کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی خدمات فراہم کی جائیں جس پر میڈیا رپورٹس کیمطابق وفد نے سعودی حکومت کی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کیلئے رضامندی ظاہر کی تاہم فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کا حتمی فیصلہ پاکستانی قیادت کریگی۔ وزیر دفاع کی سربراہی میں وفد نے واپس پاکستان پہنچنے پر وزیراعظم نواز شریف اور دیگر سول و فوجی حکام کو مشرق وسطی، یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی جانب سے پاک فوج کی مدد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یمن کی طرف سے سعودی عرب پر حملے کی صورت میں پاکستان بھرپور دفاع کریگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو سعودی عرب بھیجا جائیگا جس کو سعودی حکومت کی اہم تنصیبات پر نگرانی کیلئے تعینات کیا جائیگا تاہم پاک فوج یمنی جنگ کا حصہ نہیں بنے گی۔ دوسری جانب سعودی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے پاک فوج سعودی عرب بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے جلد پہلا دستہ سعودی عرب آئیگا۔
اگر سعودی عرب میں مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے تو یہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میں پہلے بھی پاکستانی فوج موجود ہے جو یمن کی سرحد پر دو تین روز قبل سعودی فوج کے ساتھ مشقوں میں مصروف تھی۔ خواجہ آصف نے 26 مارچ کو وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی سٹیٹمنٹ دُہرائی تھی کہ سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرے کا بھرپور جواب دینگے۔ اگلے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بیان پر اپوزیشن کی طرف سے احتجاج کیا گیا، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا تھا کہ یمن کی جنگ میں شریک ہوئے تو یہ جنگ ہمیں جلا ڈالے گی۔ ایک روز قبل وزیراعظم کا سعودی سلامتی کو درپیش خطرے سے بھرپور جواب دینے کا بیان دُہرانے والے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی میں کہا کہ فوج بھیجنا پڑی تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ سعودی عرب کے دفاع کا وعدہ ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کا وعدہ کب کیا تھا، وزیر دفاع بتا دیتے تو بہتر تھا، ایسے وعدے زبانی کلامی نہیں معاہدوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہے تو اس سے قوم کو آگاہ کرنا چاہئے۔
خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں اس بیان پر کہ ’’فوج بھیجنا پڑی تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے‘‘ تبصرے جاری تھے اور اسے حالات کی مناسبت سے مناسب قرار دیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو فون پر فوجی تعاون کی یقین دہانی کرا دی۔ اس پر اپوزیشن کے تحفظات ایک فطری ردعمل تھا، گو کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے سعودی عرب کے یمن میں اپریشن کے اقدام کو جائز قرار دیا اور سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہونے کا اعلان کیا تھا مگر ان کا مؤقف تھا کہ حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کانفرنس بُلائے۔ گزشتہ روز کراچی میں آصف علی زرداری کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کہا گیا کہ یمن کے مسئلے پر کسی فردِ واحد کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔ بلاول ہائوس میں ہونیوالے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، جے یو آئی (ف) کے قاری عثمان، راشد محمود سومرو اور بی این پی عوامی کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اسفندیار ولی کا کہنا ہے کہ یمن کی لڑائی کو اپنی نہیں سمجھتے‘ وہاں فوج نہ بھیجی جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ یمن کی طرف سے سعودی عرب پر حملے کی صورت میں سعودی عرب کا دفاع کرینگے۔ سعودی عرب اور یمن آج حالت ِجنگ میں ہیں۔ یمن کی طرف سے کسی جوابی حملے کا امکان تو نہیں ہے مگر اسے یکسر رد بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یمن کو روس، ایران اور شام کی طر ف سے سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب نے ایران پر حوثی باغیوں کی مدد کا الزام بھی لگایا ہے۔ ا گر یمن کے حملے کی صورت میں بھی پاکستان نے سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے تو اس کا فیصلہ سلطانیٔ جمہور میں فردِ واحد نہیں کر سکتا۔ اس کیلئے پارلیمنٹ کا فورم موجود ہے اس سے رجوع کریں یا پھر وسیع تر اتفاقِ رائے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بُلا لیں جس میں پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹیوں کو بھی شریک کیا جائے۔حکومت نے بہتر فیصلہ کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 6 اپریل کو طلب کیا ہے۔
حکمران پارٹی سعودی عرب فوج بھجوانے کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میںلینے کی بات کرتی ہے گویا فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کو اس پر قائل کیا جائیگا۔ ضرورت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی نہیں اس سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ حکومت نے سعودی عرب سے فوجی تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا باقی ہے۔ خارجہ سیکرٹری اعزاز چودھری نے بھی ایک بیان میںکہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے کیونکہ سعودی عرب میں ہمارے مقدس ترین مقامات موجود ہیں اور وہاں لاکھوں پاکستانی محنت کش کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی فوج بھجوانے کی درخواست افواہیں ہیں، اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے فیصلے کرنے کی کوشش کی جائیگی تو اسی طرح کا ابہام پیدا ہو گا جیسا سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کے بیانات سے پیدا ہو رہا ہے۔
خواجہ آصف کی اس منطق میں اس صورتحال میں کوئی وزن نہیں کہ پاک فوج کو سعودی عرب کی اہم تنصیبات کی نگرانی کیلئے بھیجا جائیگا۔ یہ کام تو شاید سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے پہلے ہی کر رہے ہیں۔ سعودی حکام نے خواجہ آصف کی سربراہی میں سعودی عرب جانیوالے وفد سے یمن کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی مدد کی خواہش کی اور کہا کہ یمن میں باغیوں کیخلاف زمینی کارروائی اور سعودی عرب کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی خدمات فراہم کی جائیں۔ اس حوالے سے سعودی وزیر دفاع پرنس محمدبن سلمان کا دعوی بادی النظر میںدرست نظر آتا ہے کہ پاکستان نے فوج سعودی عرب بھیجنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کا پہلا دستہ جلد سعودی پہنچے گا ظاہر ہے جن مقاصد کیلئے سعودی عرب فوج طلب کر رہا ہے انہی کیلئے استعمال بھی ہو گی۔
جنگِ یمن کا حصہ بننا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ پارلیمنٹ کو قومی دانش کا اجتماعی ادارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کی رائے کو اہمیت دی جائے اور فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر کیا جائے۔ گو پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں مگر سعودی عرب فوج بھجوانے کے حساس اور نازک ترین معاملے پر پارلیمنٹ کے متفقہ اور غیر متنازع فیصلے کی ضرورت ہے۔ جلد بازی اور ذاتی مفادات اور خواہشات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے پہلے ہی دہشتگردی کی لپیٹ میں آئے پاکستان کو مز ید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔