چودھری جعفر اقبال کی صدارتی نظام کی تجویز

چودھری جعفر اقبال کی صدارتی نظام کی تجویز


 مسلم لیگ (ن )کے نائب صدر اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی چودھری جعفر اقبال نے نوائے وقت اور دی نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے بحرانوں،مسائل اور کرپشن کا ذمہ دار پارلیمانی نظام کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے مسائل کا حل صدارتی نظام میں ہے۔
چودھری جعفر اقبال 1983 میں سیاست کے میدان میں اترے۔ اس وقت مارشل لائی صدارتی نظام جڑیں پکڑ چکا تھا۔ چودھری صاحب صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظاموںکے ثمرات سے مستفید ہوچکے ہیں۔ وہ دونوں نظاموں میں بہتر موازنہ کرسکتے ہیں۔جبکہ اس سے پہلے جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ کے صدارتی نظام کا تجربہ بھی کیاجاچکا ہے۔نظام کوئی بھی بُرا نہیں ہوتا۔اس کو چلانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کسی نظام کو بہتر بنالیں یا اپنے مفادات کی لہر میں بہہ کر خود بد نامی مول لیں اور نظام کو بگاڑ لیں۔جعفر اقبال ایک بڑی پارٹی کے ذمہ دار عہدیدار ہیں۔ ان کے انٹرویو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ان کو پارٹی قیادت کی بھی حمایت حاصل ہے اور وہ صدارتی نظام کے حوالے سے ایک ڈرافٹ بھی تیار کر رہے ہیں جسے وہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سامنے رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جعفر اقبال نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہاہے کہ ان کا مجوزہ صدارتی نظام ایوب کی طرز کا نہیں بلکہ صدر کا انتخاب براہِ راست ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے مجوزہ صدارتی نظام میں 23 ڈویژنوں کی اپنی ایڈمنسٹریشن ہوگی۔اس سے کم از کم نئے صوبوں کی بحث تو ختم ہوجائیگی یعنی پانچ چھ صوبوں سے 23ڈویژن کیا مجرب نسخہ ہے!ایک نظام سے دوسرے میں جانا آسان نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں متحد ہوکر صدارتی نظام کو اپناناچاہتی ہیں تو وہ اسے اپنے منشور کا حصہ بنائیں اور یہ پروگرام آئندہ عام انتخابات میں عوام کے سامنے رکھیں۔