زوال پذیر معیشت

 زوال پذیر معیشت


 وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا دعویٰ ہے کہ ملک میں افراط زر 25سے کم ہوکر8.8 فیصد پر آگیا ہے جبکہ وزیراعظم اور ان کے ساتھی وزراءکا کہنا ہے کہ معیشت کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عوام رو رہے ہیں کہ مہنگائی بڑھ گئی۔معیشت مضبوط کرنے کے حکومتی دعوے صرف کتابوں اور سرکاری رپورٹوں میں نظر آتے ہیں جن کے ثمرات سے عوام ابھی تک محروم ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، عوام مہنگائی کے ہاتھوں نالاں اور پریشان ہیں اور وزیر خزانہ افراط زر میں کمی کی نوید سنا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے وزیر خزانہ کی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پیش کردہ اعدادو شمار کی کھل کر نفی کی کہ یہ اعدادو شمار اگر درست ہوتے تو عوام بھی حکومت سے خوش ہوتے۔ایشیائی ترقیاتی بنک نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کو درپیش بنیادی معاشی چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاح احوال کیلئے شفاف ریونیو پالیسی اور اس پر مو¿ثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔پاکستان کو گزشتہ برسوںمیں تباہ کن سیلابوں اور بارشوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے زرعی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی نظام بُری طرح متاثر ہوا اور غربت میں اضافہ ہوا۔یو ۔این ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق 2011ءمیں لگ بھگ50فیصد غربت تھی جس میں افراط زر بڑھنے سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 2007ءسے اب تک چالیس فیصد سے بھی زیادہ کمی ہوئی۔ کچھ حلقوں کے مطابق اس وقت تما م تر بحرانوں کے باوجود اگرچہ معیشت متوازن ہے لیکن پوری طر ح مستحکم ہونے میں اسے ناکامی کا سامنا ہے غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات ملک میں امن و امان، کرپشن اور توانائی کے بحران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر نہ ہونے کے برابرہوگئے ہیں حکومت کو اپنے مالی استحکام اور ملکی معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے اپنی پالیسیوں کو از سر نو ٹھوس شفاف بنیادوں پر نہ صرف مرتب کرنا ہوگا کرپشن، امن و امان کے قیام اور عالمی برادری میں پاکستان بارے منفی خیالات اور تاثرات کو ختم کرنے کیلئے پختہ عزم کے ساتھ اپنے فنانشل ڈسپلن پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا کہ غربت و مہنگائی کی موجودہ پریشانیوں سے نکالنے کا یہی واحد راستہ ہے۔