امریکی مندوب کا یکطرفہ رویہ

 امریکی مندوب کا یکطرفہ رویہ


 امریکی مندوب نے اقوام متحدہ میں آواز بلند کی ہے کہ بلوچستان میں منحرفین کو طاقت سے خاموش کرانا بند کیاجائے جبکہ ڈرون حملوں پر خاموشی اختیار کی۔
بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے پاکستان بے خبر نہیں بلکہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ بلوچستان میں طاقت استعمال نہ کی جائے جس طرح بلوچستان کا خطہ ہے ویسے ہی قبائلی علاقہ جات بھی پاکستان کا حصہ ہیں اور امریکی ڈرون حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تلاش میںمسلسل بے گناہوں کا قتل عام کر رہے ہیں،ظاہر ہے وہ وہاں منحرفین کا تعاقب کر رہا ہے اور ایک کے شبہ میں کئی مار دیتا ہے۔یہ بات درست ہے کہ بلوچستان میں آپریشن روکا جائے اور ایجنسیوں کی حرکات کو قانون کے دائر ے میں لایاجائے،اسی طرح ڈرون حملوں کے ذریعے بے قصور پاکستانیوں کا قتل بھی روا نہیں، امریکی مندوب ہمارے گریبان سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ امریکہ کس بیدردی سے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، عراق اورافغانستان تک نہ جائیں۔ بات پاکستان کی ہے تو پاکستان ہی میں امریکی ڈرون حملوں میں ہونیوالی ہلاکتوںکے بارے میںمتعدد امریکی رپورٹس ہی پڑھ لیں کہ انextra judicial killingsمیں کتنے دہشت گرد اور کتنے بے گناہ ہیں۔اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ جو غلط کام امریکہ بہادر کرتا ہے ،پاکستانی ریاست اُسی کو جواز بنا کر خود بھی غلط کام کی تائید کرے گی۔ناراض بلوچوں کو طاقت سے راہ راست پر لانے کے بجائے انہیں مذاکرات کے ذریعے قائل کیا جاسکتا ہے جس کیلئے حکومت عندیہ بھی دے رہی ہے اس لئے امریکی مندوب کو ہمارے اندرونی معاملات میں دخل در معقولات کے بجائے واشنگٹن انتظامیہ کو قائل کرناچاہئے کہ وہ ڈرون حملوں کی پالیسی برقرار رکھ کر امریکی عوام کیلئے نفرت نہ خریدے اسی طرح ڈرون حملوںپر امریکی مندوب کا مو¿قف بھی سامنے آناچاہئے تھا۔