الیکشن کمشن کا انتخابی ضابطہ¿ اخلاق اور وفاقی کابینہ سے انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری قواعد و ضوابط پر عمل کرائے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں

الیکشن کمشن کا انتخابی ضابطہ¿ اخلاق اور وفاقی کابینہ سے انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری قواعد و ضوابط پر عمل کرائے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں


پاکستان الیکشن کمشن نے نئے انتخابی ضابطہ¿ اخلاق کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت انتخابات کے روز اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی، فوج، عدلیہ کی تضحیک یا ذاتیات پر بات نہیں ہو سکے گی۔ سیاسی جماعتیں انتخابی جلسے الیکشن کمشن کی اجازت سے کریں گی اور الیکشن کمشن کے ضابطہ¿ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ یہ ضابطہ¿ اخلاق گذشتہ روز چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی زیر صدارت الیکشن کمشن کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔ بعدازاں الیکشن کمشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے مجموعی 1170 میں سے 900ارکان نے دہری شہریت نہ ہونے کے حلف نامے داخل کرا دئیے ہیں۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیوں کے معاملہ کا الیکشن کمشن سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے انتخابی ضابطہ¿ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ صرف اخلاق سے کام نہیں چلے گا۔ ضابطہ¿ اخلاق کی جو بھی خلاف ورزی کرے گا وہ نااہل قرار پا جائےگا۔
 چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے اس منصب پر نامزدگی کے بعد آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کے جس عزم کا اظہار کیا، اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد وہ نہ صرف اس عزم پر کاربند ہیں بلکہ تمام ممکنہ عملی اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان کے منصب سنبھالنے سے پہلے سپریم کورٹ ضمنی انتخابات سے متعلق دائر متعدد درخواستوں میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کےلئے احکام صادر کر رہی تھی جن میں انتخابی فہرستوں میں موجود اڑھائی کروڑ جعلی ووٹوں کو فہرستوں سے خارج کرنے کے احکام بھی شامل ہیں۔ اسی طرح الیکشن کمشن کو مکمل آزاد اور خود مختار بنانے کے معاملہ میں بھی سپریم کورٹ کی مشاورت شامل رہی جبکہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے جنہیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے منصب کےلئے نامزد کیا گیا ،یہ منصب قبول ہی اس شرط پر کیا کہ الیکشن کمشن کی خود مختاری میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائےگی۔ انہوں نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کےلئے متعدد پیرامیٹرز بھی متعین کئے اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم اور اخراجات کے حوالے سے بھی بعض قواعد و ضوابط مرتب کئے۔ پہلے قومی اور صوبائی اسمبلی کا ہر امیدوار قانونی طور پر 50 لاکھ سے 30 لاکھ روپے اور عملاً کروڑوں روپے خرچ کرتا تھا جبکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی اخراجات کی حد قومی اسمبلی کے امیدوار کےلئے 15 لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار کےلئے 10 لاکھ روپے مقرر کر دی اور ساتھ ہی یہ واضح بھی کر دیا کہ انتخابی اخراجات کے رولز پر سختی سے عملدرآمد بھی کرایا جائےگا۔ اگرچہ انتخابی اخراجات کی یہ حد بھی غریب اور درمیانہ طبقے کے امیدواروں کی برداشت سے باہر ہے اور اتنے اخراجات کی قانونی اجازت کی موجودگی میں عام طبقات سے کسی امیدوار کا سامنے آنا ناممکنات میں شامل ہے تاہم الیکشن کمشن کی جانب سے متعینہ انتخابی اخراجات کو ہی پیمانہ بنا لیا جائے تو دھن دولت کے زور پر ووٹ خریدنے کے کلچر پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح الیکشن کمشن کی جانب سے پولنگ والے روز امیدواروں پر ووٹروں کو اپنی ٹرانسپورٹ پر گھروں سے لانے سے بھی منع کر دیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا کہ امیدواروں کو پولنگ بوتھوں پر لانے کی ذمہ داری خود الیکشن کمشن ادا کرے گا۔ جبکہ امیدواروں کو پولنگ سٹیشنوں کے باہر اپنے انتخابی کیمپ لگانے اور کسی قسم کی کنویسنگ کرنے سے بھی روکا جا چکا ہے اور اب الیکشن کمشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے جس پر مکمل عملدرآمد ہونے سے ہی اس برائی کا تدارک ممکن ہے جو ماضی میں انتخابات کے موقع پر دھن، دھونس، دھاندلی کی صورت میں انتخابی عمل کو پراگندہ کرتی نظر آتی رہی ہے۔ انتخابی قواعد و ضوابط تو سابقہ انتخابات کے موقع پر بھی وضع ہوتے رہے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کی کبھی نوبت نہیں آئی چنانچہ جہاں ہمارے انتخابی کلچر میں پیسے کے بے دریغ استعمال کی روش پروان چڑھی وہیں حکومتی پارٹیوں کی جانب سے سرکاری وسائل و اختیارات کے بے ہنگم استعمال سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا تصور ہی بے معنی نظر آتا رہا ہے اب چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے جن پر حکومتی اور اپوزیشن تمام جماعتیں اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کر چکی ہیں، آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا بیڑہ اٹھایا ہے تو انتخابات میں حصہ لینے والی حکومتی اور اپوزیشن تمام جماعتوں کی یکساں ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمشن کے وضع کردہ تمام قواعد و ضوابط اور ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کرکے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کےلئے ان کا خواب شرمندہ¿ تعبیر کریں اور ان کے عزم کا ساتھ دے کر جمہوریت کے فروغ و استحکام میں معاون بنیں۔ سپریم کورٹ کو بھی سیشن ججوں کی بطور پرایذائیڈنگ افسر تعیناتی سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کی تجویز کی پذیرائی کرنی چاہئے۔
اس وقت پاکستان الیکشن کمشن کے لئے اصل چیلنج منتخب ایوانوں کو عوام کے حقیقی نمائندہ ایوان بنا کر پرامن طریقے سے انہیں اقتدار کی منتقلی کا ہے جس کےلئے ضرور ی ہے کہ ووٹر ہر قسم کے دباﺅ سے آزاد ہو کر قطعی پرامن ماحول میں اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق رائے دہی کا حق استعمال کریں چنانچہ جہاں بوگس ووٹنگ کے تدارک کیلئے حوصلہ افزا اور ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں وہیں اب تمام فریقین متفق ہو کر انتخابی عمل کو سازگار بنائیں اور جہاں بھی کسی امیدوار یا امیدوار کے حامی ورکروںکی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جائے ان کے خلاف موقع پر ہی سخت تادیبی کارروائی کرکے اسے دوسروں کےلئے مثال بنا دیا جائے۔ الیکشن کمشن کے متعینہ ضابطہ اخلاق کے تحت جن جن شقوں کی خلاف ورزی پر نااہلیت کی تلوار لٹکائی گئی ہے اس پر عملدرآمد متعلقہ امیدوار کو نااہل قرار دے کر ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے اس لئے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کو ابھی سے اپنے امیدواروں اور کارکنوں کےلئے ریفریشر کورسز شروع کر دینے چاہئیں تاکہ کل کو کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ اسے انتخابی ضابطہ اخلاق سے مکمل آگاہی نہیں تھی۔
اس سلسلہ میں گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے بھی انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری دی ہے۔ اگر اسے الیکشن کمشن کے متعین کردہ قواعد و ضوابط اور انتخابی ضابطہ¿ اخلاق کے ساتھ مربوط کر دیا جائے تو اس کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے خاطر خواہ نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں الیکشن کمشن سرخرو ہوا تو اس سے درحقیقت جمہوریت سرخرو ہو گی جو جمہوریت کو لاحق ہونے والے خطرات کی روشنی میں آج کا تقاضہ بھی ہے۔