بجٹ اور ماہ رمضان سے قبل حکومت کا عوام پر پٹرول بم----- کیا حکمران جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
بجٹ اور ماہ رمضان سے قبل حکومت کا عوام پر پٹرول بم----- کیا حکمران جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں؟

وفاقی حکومت نے تیل کے عالمی نرخوں میں اضافہ کو جواز بنا کر ملک میں پٹرولیم نرخوں میں 3.50 سے 3.57 روپے فی لٹر تک کا اضافہ کر دیا ہے جس کا گزشتہ شب 12 بجے اطلاق ہوگیا۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اتوار کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں چھ سے سات روپے تک فی لٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی تاہم وزیراعظم میاں نوازشریف نے ان سفارشات پر من و عن عملدرآمد سے انکار کر دیا اور اب پٹرولیم مصنوعات کے جو نئے مقرر کئے گئے ہیں انکے مطابق پٹرول اور مٹی کے تیل کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے اور ڈیزل کے نرخوں میں 3 روپے 51 پیسے فی لٹر اضافہ ہوا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل کے نرخوں میں سب سے زیادہ 3 روپے 57 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ انکے بقول حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا آدھا بوجھ خود برداشت کررہی ہے اور صارفین کو پٹرولیم مصنوعات پر چھ ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کو بجٹ سے پہلے عوام پر پٹرول بم چلانے کے مترادف قرار دیا ہے اور اسے مسترد کرتے ہوئے یہ اضافہ فی الفور واپس لینے کا تقاضا کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی اے کے چیئرمین عمران خان نے اس اضافے کیخلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ 

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ سال ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی ہونا شروع ہوئی تھی جو سات ماہ کے دوران کم ہوتے ہوتے 120 ڈالر فی بیرل سے کم ترین سطح 48 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ اب گزشتہ ماہ عالمی مارکیٹ میں بتدریج اضافہ کا رجحان شروع ہوا ہے مگر اس وقت بھی یہ نرخ فی بیرل 70 ڈالر کا ہندسہ عبور نہیں کر پائے۔ اصولی طور پر تو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں انقلابی کمی کے ثمرات دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے عوام تک بھی پہنچائے جانے چاہئیں تھے مگر اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہمارے منافع خور طبقات نے پہلے تین ماہ تک تو عوام کو نرخوں میں کمی کے ثمرات کے قریب تک نہ پھٹکنے دیا بلکہ پہلے مہینے عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود یہاں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بے مہابا اضافہ کا کلہاڑا ہی عوام پر چلایا گیا۔ اگلے دو ماہ قیمتیں برقرار رکھی گئیں اور پھر عمران خان اور طاہرالقادری کی دھرنا تحریکوں کا دبائو کم کرنے کیلئے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا جو عملاً اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف تھا۔ عالمی مارکیٹ میں تو پٹرولیم مصنوعات کے نرخ آدھے سے بھی کم رہ گئے مگر ہمارے ملک میں بتدریج 15 سے 20 فیصد کمی کی جاتی رہی اور پھر اس کمی کے ثمرات بھی جی ایس ٹی میں پہلے پانچ فیصد اورپھر اگلے ماہ مزید پانچ فیصد اضافہ کرکے عوام سے واپس لے لئے گئے۔ اس طرح حکومت تو منافع میں بھی خسارہ برداشت کرنے کی روادار نہ ہوئی جبکہ سلطانیٔ جمہور کے ثمرات سے مستفید ہونے کے خواہش مند عوام الناس بدستور راندۂ درگاہ بنے رہے اور وہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا ہونیوالا فائدہ اضافی جی ایس ٹی کی ادائیگی کی صورت میں حکومت کو واپس لوٹاتے رہے۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا کریڈٹ خود وزیراعظم نوازشریف لیتے رہے جبکہ اگلے دو ماہ نرخوں میں کسی قسم کا ردوبدل نہ کرنے کا کریڈٹ بھی انہوں نے حکومتی ترجمانوں کے ان بیانات کے ذریعے خود لیاکہ وزیراعظم نے عوام دوستی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے نرخوں میں اضافے سے متعلق اوگرا کی سمری منظور نہیں کی جبکہ اب عوام کے ساتھ دہرا ہاتھ کیا گیا ہے۔ ایک تو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے فی لٹر تک کا اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا اور پھر وزیر خزانہ نے نئے نرخوں کے اطلاق سے چار گھنٹے قبل نئے نرخوں کا اعلان کرکے براہ راست پٹرول پمپ مالکان کو فائدہ پہنچایا جنہوں نے اس اعلان کے فوراً بعد پٹرول اور ڈیزل کی سیل بند کرکے عوام کو موجودہ نرخوں پر پٹرول ڈیزل خریدنے سے محروم کر دیا۔ یقیناً وزیر خزانہ کے اس قبل از وقت اعلان کا فائدہ پٹرول پمپ مالکان کو بیٹھے بٹھائے اربوں روپے کے منافع کی صورت میں ہوا ہوگا۔ دیگر منافع خور طبقات کی طرح پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلر حضرات کی اکثریت بھی اقتدار کے منتخب ایوانوں میں ہی موجود ہے جو اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کیلئے منتخب ایوانوں میں ایکا کرکے بیک آواز ہونے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے اس لئے ان طبقات سے عوام کی فلاح کیلئے کسی قانون سازی یا محض ہمدردی کے اظہار کی بھی توقع نہیں رکھی جا سکتی اور نہ ہی وہ اپنے جائز ناجائز دھندوں میں حاصل کئے جانیوالے منافع میں کسی قسم کی کمی کو قبول کرنے کے روادار ہو سکتے ہیں۔ اب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ان طبقات کی ہی ترجمانی کرتے ہوئے وفاقی بجٹ اور ماہ رمضان المبارک سے قبل پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کرکے منافع خور طبقات کو دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کا آسان موقع فراہم کردیا ہے۔ اسلامی اقدارکے داعی ہمارے معاشرے میں تو پہلے ہی ماہ رمضان المبارک کے دوران زیادہ سے زیادہ منافع خوری کا کلچر مستحکم ہو چکا ہے جس کے آگے کوئی انتظامی حکم اور مہنگائی روکنے کے ذمہ دار اداروں کے اقدامات پر نہیں مار سکتے‘ جبکہ اب ماہ رمضان سے 15 روز قبل پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھا کر مہنگائی کے عفریت کو پروان چڑھانے والے منافع خور طبقات کو یہ عفریت توانا کرکے ماہ رمضان المبارک کے آغاز ہی میں بے بس عوام پر چھوڑنے کا نادر موقع فراہم کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر اب اس ماہ کے پہلے ہفتے پیش ہونیوالے وفاقی بجٹ میں نکل جائیگی جس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق تین سو ارب روپے کے نئے ٹیکس نافذ کئے جا رہے ہیں۔ ٹیکس چوری پر مبنی ہمارے کلچر میں ٹیکسوں کا سارا بوجھ تنخواہ دار اور مزدور طبقات پر مبنی عوام الناس پر ہی پڑتا ہے جن سے جبراً ٹیکس وصول کرنا آسان ہوتا ہے۔ بے شک نئی ٹیکس اصلاحات میں مزید ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا بجٹ میں اعلان متوقع ہے مگر جب ٹیکس نیٹ میں پہلے سے موجود بڑی مچھلیوں اور مراعات یافتہ طبقات سے ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف پورے نہیں ہو پاتے تو ٹیکس نیٹ میں لائے جانیوالے عادی ٹیکس چور نئے طبقات سے بھی ٹیکسوں کی وصولی کیسے ممکن ہو پائے گی۔ چنانچہ وزیر خزانہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے پہلے ہی کی طرح ہر دو ماہ بعد عوام پر منی بجٹ مسلط کرتے نظر آئینگے۔ مجوزہ بجٹ کی سروے رپورٹوں کے مطابق بجٹ میں تعمیراتی سامان‘ چمڑا‘ گارمنٹس‘ سرجیکل آلات‘ کارپٹ‘ دودھ‘ دہی‘ موبائل سیٹ‘ چینی‘ سگریٹ‘ مشروبات اور کوکنگ آئل سمیت عوام الناس کے روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کا بوجھ پہلے ہی عوام پر مسلط کیا جا چکا ہے جس کے باعث عوام کو مہنگائی کی مار کے سوا حکومت سے کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا۔
اگرچہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کو مسترد کرنے کے رسمی اعلانات سامنے آچکے ہیں‘ مگر عملاً عوام کی دادرسی کا کوئی دروازہ کھلتا نظر نہیں آرہا۔ یقیناً بجٹ سیشن میں بھی اپوزیشن کا یہی کردار اور ایسی ہی کارکردگی سامنے آئیگی کہ اسے عوام دشمن قرار دے کر مسترد کرنے کے محض اعلانات پر ہی صاد کرلیا جائیگا جبکہ سارا سال حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے مراعات یافتہ طبقات اپنے اپنے فائدے اور مزید مراعات کیلئے یکسو ہو کر آواز بلند کرنے اور طبقاتی مفاداتی تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرینگے۔ سلطانیٔ جمہور سے وابستہ ان طبقات کی یہی وہ پالیسیاں ہیں جو عوام کو سسٹم سے بدگمان ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور پھر طالع آزمائوں کو عوام کے ان جذبات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ حکمران طبقات کو سوچنا چاہیے کہ وہ پے در پے اٹھائے جانیوالے عوام دشمن اقدامات سے جمہوریت کا مردہ کہیں خود ہی خراب کرنے پر تو نہیں تلے بیٹھے؟ اگر آج انکی غلطیوں سے جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اترتی ہے تو اسے واپس ٹریک پر لانے کیلئے کتنا عرصہ اور کتنی کٹھن جدوجہد درکار ہو گی‘ یہ سوچ کر تو داعیانِ پاسداران جمہوریت کو عرقِ ندامت میں غرق ہو جانا چاہیے۔