اے این پی کے رہنما پر مقدمہ قتل اور انکی گرفتاری

ایڈیٹر  |  اداریہ
اے این پی کے رہنما پر  مقدمہ قتل اور انکی گرفتاری

پی ٹی آئی کارکن کے قتل کا الزام، نوشہرہ میں اے این پی کے رہنما میاں افتخار گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
خیبر پی کے تحریک انصاف کے امیدوار کی جیت کی خوشی میں نکالے جانیوالے جلوس میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کے ایک کارکن کی ہلاکت کے الزام میں صوبے کے سابق وزیر میاں افتخار کو پولیس نے جس طرح گرفتار کیا اور پھر انہیں ہتھکڑی لگا کر میڈیا کے سامنے لایا گیااس سے پی ٹی آئی کی کے پی کے حکومت اور پولیس پر سیاستدانوں سمیت مختلف عوامی طبقوں کی طرف سے انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ میاں افتخار ایک بااصول سیاستدان ہیں‘ جن کا اپنا کلوتا بیٹا بھی خود کش حملے میں شہید ہو چکا ہے۔انہیں اس قسم کے واقعہ میں ملوث کرنے کو سیاسی انتقام قرار دیا جارہا ہے تو سسٹم میں تبدیلی کے دعویدار عمران خان کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جو اس مقدمہ میں اپنی اور وزیراعلیٰ کے پی کے کی لاتعلقی کے اعلان کے باوجود خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس افسوسناک واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے یا عمران خان کی طرف سے یہ کہنا کہ پولیس نے از خود مقدمہ درج کیا ہے صوبائی حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ایک بودی دلیل کے سوا کچھ نہیں کیونکہ مقدمہ کا مدعی خود بیان دے رہا ہے کہ اس نے ایف آئی آر میں میاں افتخار حسین کا نام شامل نہیں کرایا۔ ویسے بھی بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ہونیوالے جھگڑوں میں دوسرے افراد کی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں جن میں پی ٹی آئی کے مخالفین کے لوگ بھی شامل ہیں۔ کیا انکے قتل کے مقدمات میں عمران خان ‘ وزیراعلیٰ کے پی کے نامزد ہوئے؟ اگر انتقامی سیاست کو فروغ دیا جائیگا تو پھر اسکی کوئی انتہاء نہیں رہے گی۔ اس وقت صوبے میں صورتحال خاصی کشیدہ ہے۔ مخالف جماعتیں الیکشن میں دھاندلی کا شور بھی مچا رہی ہیں ایسی صورتحال میں میاں افتخار کیخلاف پولیس کارروائی اور قتل کا الزام اس کشیدگی میں اضافہ کا باعث ہی بنے گا۔