اقتصادی راہداری پر بھارت حواس باختہ کیوں؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
اقتصادی راہداری پر  بھارت حواس باختہ کیوں؟

وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے بھارت نے سارک کے چھ ممالک پر اپنی بالادستی قائم کررکھی ہے۔ صرف پاکستان ہی اسکے سامنے کھڑا ہے اس نے بھارت کی توسیع پسندی کو تسلیم نہیں کیا۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کریگا۔انہوں نے یہ بات نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کے دوران کہی۔
اکھنڈ بھارت ایجنڈے کی رو سے بھارت کیلئے پاکستان کا وجود ناقابل برداشت رہا ہے۔ وہ اسے ترقی کرتا تو ہر گز نہیں دیکھ سکتا۔ چین کی پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ اقتصادی راہداری اس سرمایہ کاری کا اہم منصوبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی عروج پر ہو گی۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط ہونے سے قبل ہی بھارتی نیتائوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ معاہدے کے بعد تو جیسے یہ لوگ اپنے حواس کھو بیٹھے۔ مودی کے چین کے دورے سے قبل چینی سفیر کو دہلی کی وزارت خارجہ میں طلب کرکے اقتصادی راہداری منصوبے پر باقاعدہ احتجاج کیا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ شسماسوراج کہتی ہیں کہ نریندر مودی نے دورہ چین کے دوران چینی حکام کو باور کرایا کہ اقتصادی راہداری ناقابل قبول ہے۔ چین میں بیٹھ کر مودی ایسی جرأت کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اگر بالفرض انہوں نے ایسا کیا تو دھوتی بھی گیلی ہو گئی ہو گی۔ خود شسما سوراج بھی پاک چین معاہدوں کی مخالفت کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے الیکشن سے قبل کہا تھا کہ سونیا گاندھی کو وزیر اعظم بنایا گیا تو وہ اپنی ٹنڈ کرا دیں گی خیر یہ نوبت تو نہیں آئی۔ اب وہ اقتصادی راہداری کی تکمیل سے اپنی چٹیا مشروط کر دیں اور وہ یقینا ان کو کٹوانی پڑیگی۔ بھارت نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ ان کا پاکستان میں راہداری سے کیا تعلق ہے؟ ان کیلئے ناقابل قبول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اپنی آگ میں جلتے رہیں۔ بھارت کے کھربوں ڈالر کے عالمی معاہدے ہوتے ہیں تو پاکستان نے کبھی مخالفت نہیں کی۔ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ وہ اپنے مفادات کا خود تعین کرنے میں آزاد ہے۔ آپ خواہ مخواہ ٹانگ اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کہتے ہیں کہ کشمیر میں امن دشمن سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں۔ ان سرگرمیوں میں بھارتی فوج ملوث ہے اسے ایسی سرگرمیوں سے روکیں۔ شسما سوراج مزید کہتی ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ پاکستان نے تو اسے ایسی درخواست کی ہی نہیں اور بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا کوئی زیادہ شوق بھی نہیں ہے۔ یہ تو مودی نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا۔ اب انڈیا تھوک کر چاٹ رہا ہے تو اسکی مرضی ہے۔