پنجاب میںامن و امان کی تشویشناک صورتحال

ایڈیٹر  |  اداریہ
 پنجاب میںامن و امان کی تشویشناک صورتحال

 ننکانہ صاحب کے حلقہ پی پی 174 سے مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے اور ممبر پی اے سی واینٹی کرپشن کمیٹی رانا جمیل حسن کو اسلام آباد جاتے ہوئے موٹر وے پر سیال موڑ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اہلیہ سمیت اغوا کرلیا، دوسری طرف لاہور نشتر بلاک میں ڈاکوئوں نے تاجرقتل کردیا جبکہ ننکانہ میں ڈاکوئوں نے 3کروڑ کا سونا لوٹ لیا۔ پنجاب بھر میں امن و امان کی صورتحال بدتر ہوچکی ہے جہاں ایک ایم پی اے کو تاوان کیلئے اغوا کرلیاجائے وہاں عام آدمی کا کیا بنے گا۔ ہماری بے حس پولیس اب بھی اپنے رویے اور کارکردگی کو درست کرنیکا نہیں سوچ رہی۔ ماضی میں پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا لیکن لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ ہمارے سیاستدان، پولیس افسران فولادی مورچوں میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ عوام زنگ آلود اسلحہ سے لیس بغیر تربیت یافتہ محافظوں کے سپرد ہیں۔ پچھلے 13 سال سے ہم حالت جنگ میں ہیں ہماری سپاہ پر حملے ہوئے شہریوں کو گولیاں ماری گئیں۔ معصوم بچوں کو سکولز میں مارا گیا لیکن حکمرانوںنے اپنی سکیورٹی مضبوط کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ امن و امان کی شرمناک صورتحال پر آئی جی پنجاب پولیس کیلئے لمحۂ فکریہ ہونی چاہئے تھی لیکن انکی پیشانی تو عرق آلود بھی نہیں ہوئی۔  خادم پنجاب عوام پر خطرات کے منڈلاتے بادلوں کا بھی نوٹس لیں۔ ایم پی اے کا اغوا ہونا حکمرانوں کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ اگر حکومت نے اس صورتحال کو ٹھیک نہ کیا تو کل کو کوئی حکومتی بندہ بھی تاوان کیلئے اغوا ہوسکتا ہے۔ نشتر بلاک اقبال ٹائون لاہور میں تاجر کو گولیاں ماری گئیں لیکن پولیس خاموش تماشائی ہے ڈی ایس پی اور ایس پی سے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔ننکانہ میں 3کروڑ کا سونا لوٹا گیا۔ آئی جی پنجاب اگر عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے تو خادم پنجاب ان کی جگہ کسی فرض شناس افسر کو ذمہ داری سونپیں تاکہ عوام کی جان ومال محفوظ ہوسکے۔