قادری موذن اور مکبر کا سازشی ایجنڈا

ایڈیٹر  |  اداریہ
 قادری موذن اور مکبر کا سازشی ایجنڈا

 پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس سے واقف ہوں کسی کو جمہوریت پر شب خون نہیں مارنے دیں گے دوسری طرف لندن میں (ق) لیگ ، عوامی تحریک کے قائدین حکومت کی تبدیلی کیلئے 10  نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوگئے ہیں۔ آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی (ق) لیگ سیاسی طور پر یتیم ہوچکی ہے آجکل اس کی قیادت بھی سیاسی تنہائی کا شکار ہے جب سوچ کے سارے راستے حصول اقتدار کی جانب نکل کھڑے ہوں تو چھوٹے چھوٹے سہارے اس کا منتہائے مقصود بن جاتے ہیں۔ علامہ طاہر القادری کینڈین نیشنلٹی کے عوض انہی کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرم ہیں اور ہماری تہذیب میں ایسی بے چارگی کے بیج بونے کی کوشش میں ہیں جو مغرب کی دلدادہ ہو۔ علامہ صاحب اگر اتنے ہی محب وطن اور محب عوام ہوتے تو اپنے ہی ملک میں رہنے کو ترجیح دیتے ۔انکا دس نکاتی ایجنڈا حقیقت میں ملک میں انتشار پھیلانے کا ایجنڈا ہے۔ چوہدری برادران اپنی سیاسی تنہائی دور کرنے کیلئے لندن گئے حالانکہ ان کا سیاسی قد کاٹھ انہیں قادری کے در پر سر رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔رہی بات حکومت کی کارکردگی کی تو وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے ایک سال میں دودھ یا شہد کی نہریں بہنا شروع نہیں ہو گئیں لیکن ماضی کی طرح ترقیاتی کام صرف فائلوں تک محدود بھی نہیں ہیں۔ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے شروع ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے پربھی کام جاری ہے جبکہ ترکی اور چین کی مدد سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے یہ اچھی روایت ہے اگر ایک جمہوری حکومت کام کر رہی ہے تو اس کی سپورٹ کی جائے۔ حکومت کو بھی اپنی گڈ گورننس بہتر کرنی چاہئے تاکہ عوام جمہوریت دشمن عناصر کی باتوں پر کان دھرنے کی بجائے حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔ علامہ طاہر القادری کو ایک کروڑ نمازیوں کی بجائے چوہدری برادران کی شکل میںایک موذن اور مکبر مل گیا ہے ان کی مدد سے وہ اپنے بچوںکی سیاسی طورپر چہرہ کشائی تو کرلیں گے لیکن جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا انکا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔