افغانستان سے منظم ہو کر 200 دہشت گردوں کا پاکستانی چوکیوں پر دھاوا اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی …اب محض رسمی احتجاج نہیں، آئندہ کسی حملہ آور کو بچ کر نہ جانے دیا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
افغانستان سے منظم ہو کر 200 دہشت گردوں کا پاکستانی چوکیوں پر دھاوا اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی …اب محض رسمی احتجاج نہیں، آئندہ کسی حملہ آور کو بچ کر نہ جانے دیا جائے

باجوڑ ایجنسی میں افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر ہفتے کی صبح پانچ بجے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دس حملہ آور مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے سرحد پار حملے پر افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ اس سلسلہ میں افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ میں طلب کر کے پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق افغانستان سے آنے والے دو سو حملہ آوروں نے ناڈ ٹاپ میں قائم سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملہ کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اور حملہ آوروں میں کم از کم ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ سینئر فوجی اہلکار کے مطابق تحریک طالبان باجوڑ اور سوات کے شدت پسند افغان صوبے کنڑ کے گائوں غنڈ میں جمع تھے جہاں سے پاکستانی چوکیوں پر حملہ کیا گیا۔ بی بی  سی کے مطابق کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی چوکیوں پر حملے کے خلاف احتجاج کر کے افغانستان کو پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ سرحد پار سے پاکستانی علاقے میں حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو سخت تحفظات ہیں۔ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر نے بھی افغان دفترِ خارجہ میں جا کر پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اس خطے کے جن دو برادر مسلم ممالک کو باہمی تعاون کے مثالی تعلقات استوار کر کے ایک مضبوط علاقائی بلاک کی بنیاد رکھنی چاہئے تھی اور ایک دوسرے کے وسائل سے استفادہ کر کے ملکی اور قومی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی ضمانت بننا چاہئے تھا، بدقسمتی سے قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس کے ساتھ افغانستان کے معاندانہ رویے کے باعث ان دونوں ممالک کے مابین خیرسگالی کے رسمی تعلقات بھی قائم نہ ہو سکے۔ اس معاندانہ فضا کی بنیاد افغانستان کے اس وقت کے صدر ظاہر شاہ نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کیلئے ووٹنگ کے مرحلہ پر اس کے خلاف ووٹ ڈال کر رکھی تھی جس کے بعد پڑوسی مسلم ملک ہونے کے باوجود پاکستان کو افغانستان کی جانب سے کبھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا نہیں آیا اور طالبان حکومت کے مختصر عرصہ میں پاکستان کے ساتھ افغانستان کے جو برادرانہ تعلقات استوار ہوئے اسی کا خمیازہ پاکستان کو امریکی نائین الیون کے بعد اس علاقے میں مسلط کی گئی دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں اپنی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اگر یہ دونوں ممالک رسمی خیر سگالی کے جذبات سے آگے بڑھ کر مسلم معاشرے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ اخوت، بھائی چارے اور یکجہتی کے بندھن میں بندھ جاتے جس کیلئے بظاہر کوئی رکاوٹ بھی موجود نہیں تھی تو جس طرح افغانستان اور بلوچستان کی دھرتی قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے اور پاکستان میں زیر زمین جتنے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں انہیں باہمی تعاون سے بروئے کار لا کر یہ دونوں ممالک اس خطے کو عرب ریاستوں جیسی خوشحالی سے ہمکنار کر سکتے تھے۔ افغانستان کی بھارت کی طرح پاکستان کے ساتھ دیرینہ دشمنی کی کوئی تاریخ بھی موجود نہیں اس لئے افغانستان کے پاکستان کے ساتھ خدا واسطے کے بیر کی کوئی سمجھ بھی نہیں آتی مگر نیٹو فورسز کی افغان جنگ کے دوران امریکی بیساکھیوں پر آنے والے افغان صدر کرزئی نے جتنا پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور اس کی سالمیت کیلئے خطرات پیدا کئے، ہماری سرحدوں پر ایسی کھلم کھلا جارحیت کی جرأت پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی نہیں کر سکا۔ اگر بھارت نے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے ہماری سرزمین پر اپنی سازشوں کے جال پھیلائے ہیں تو اس کی سہولت بھی اسے افغانستان کی معاونت سے حاصل ہوئی ہے جہاں بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے افغان فوجوں کی تربیت کے بہانے بھارتی دہشت گردوں کو تربیت دے کر اور مسلح کر کے افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کیا جاتا رہا ہے۔
کرزئی نے اپنے اقتدار کے دونوں ادوار میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی مرحلہ پر خیر خواہی نہیں کی بلکہ دہشت گردی کے فروغ کے جو الزامات بھارت کی جانب سے لگائے جاتے رہے ہیں، کرزئی بھی انہی الزامات کو دُہرا کر بھارت ہی کی زبان اور لب و لہجے میں پاکستان کو دھمکیاں دیتے بھی نظر آتے رہے ہیں۔ انہوں نے افغان قوم سے غداری کر کے جہاں افغان دھرتی کو نیٹو فورسز کی آماجگاہ بنوایا وہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ بھی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو اس کی سالمیت کے خلاف سازشوں کی تکمیل کا موقع فراہم کیا اور وہ گاہے بگاہے نیٹو فورسز کو بھی دہشت گردی کی جنگ افغانستان سے پاکستان منتقل کرنے کی راہ دکھاتے رہے۔ اگر یہ دونوں برادر مسلم ممالک علاقائی تعاون کے علاوہ باہمی دفاعی تعاون کے بندھن میں بھی بندھے ہوتے تو یقینا بیرونی فورسز کو افغان سرزمین پر آنے اور قدم جمانے کی کبھی جرأت نہ ہوتی مگر کرزئی کی حصولِ طاقت و سرمایہ کی حرص نے علاقائی سلامتی کا شیرازہ بکھیر دیا۔
مسلح دہشت گردوں کا جتھہ بند ہو کر افغان سرحد سے پاکستان میں داخل ہو نے اور یہاں چیک پوسٹوں پر حملے کرنے کا سلسلہ دو سال قبل کابل میں دہشت گردی کی ایک واردات میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل سے شروع ہُوا تھا اور جتنی دیدہ دلیری  کے ساتھ یہ دہشت گرد دن دیہاڑے افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوتے تھے اس سے یہی نتیجہ اخذ ہونا تھا کہ ان دہشت گردوں کو کابل انتظامیہ اور سرحدوں پر تعینات افغان اور نیٹو فورسز کی مکمل معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان حملوں کو بروقت کارروائی کر کے پسپا کیا جاتا رہا ہے مگر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ان حملوں میں جانی اور مالی نقصانات تو اٹھانا پڑے جبکہ افغانستان سے آنے والے بعض جتھہ بند دہشت گردوں نے سرحدی علاقوں کی سول آبادیوں پر بھی حملے کئے۔ اصولی طور پر تو پاکستان کو پہلے حملے کو ہی ملک کی سالمیت کے خلاف حملہ سمجھ کر حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں افغانستان واپس جانے کی مہلت ہی نہیں دینی چاہئے تھی مگر ہر حملے کے بعد افغان حملہ آور واپس جاتے اور دوبارہ منظم ہوتے رہے جن کی جانب سے پوری دیدہ دلیری کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونے اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ کرزئی کابل کے اقتدار سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے عبوری اقتدار کے عرصہ میں بھی پاکستان کے خلاف عناد اور دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے، انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر بھی وہاں پہنچ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور مودی سے ملاقات کے دوران بھی ہرات میں بھارتی قونصل خانہ میں ہونے والی دہشت گردی کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جس پر مودی، دوسرے بھارتی حکام اور میڈیا کو پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کا موقع حاصل ہوا اور خیرسگالی کا جذبہ لے کر بھارت جانے والے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو ان الزامات کا سامنا کرتے ہوئے پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس ملاقات کے اگلے روز کرزئی نے کابل واپس پہنچ کر اپنی پریس کانفرنس میں ہرات دہشت گردی کے حوالے سے پھر پاکستان کو رگیدا اور ایٹمی پاکستان کو دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہ کیا جبکہ اب ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے حملے کے ذریعے پاکستان کی سالمیت پر اوچھا وار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ اس معاندانہ فضا میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری سے دو روز قبل ہرات میں بھارتی قونصل خانے پر حملہ بھی کسی سوچی سمجھی سکیم کے تحت انہی دہشت گردوں سے کرایا گیا ہے جو گذشتہ روز پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ اگر کرزئی مُلا عمر کے کوئٹہ میں موجود ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں جس کا اظہار انہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات کے دوران کیا تو اس کا مقصد امریکہ اور بھارت کو پاکستان پردہشت گردی کا لیبل لگانے کی سہولت فراہم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر کالعدم تحریک طالبان باجوڑ اور سوات کے شدت پسند افغانستان میں منظم ہوئے ہیں جنہیں گذشتہ روز پاکستان میں داخل ہو کر چیک پوسٹوں پر حملہ کرنے کی سہولت ملی ہے تو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے جبکہ پاکستان تو دہشت گردی کازخم خوردہ ہے اور اب تک ناقابلِ تلافی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔ اس صورت حال میں ہمیں ہر سفارتی سطح پر اصل حقائق دنیا کے سامنے لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے اور دہشت گردی کے حوالے سے اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہئے۔ حکومت کو بھی ایسے کسی حملے پر افغانستان سے محض رسمی احتجاج پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے اور آئندہ افغانستان کی جانب سے ایسے کسی حملہ کی کوشش کی جائے تو کسی بھی حملہ آور کو بچ کر نہ جانے دیا جائے تاکہ ملک کی سرحدوں پر پاکستان کی کسی کمزوری کا تاثر پیدا نہ ہو سکے۔ ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کو بھارتی سرحدوں ہی کی طرح افغان سرحد پر بھی ہمہ وقت مستعد و چوکنا رکھنا ہو گا کیونکہ بھارت بھی افغان سرحد ہی سے ہماری کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔