سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کی قرارداد ایک ووٹ سے مسترد

ایڈیٹر  |  اداریہ
سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کی قرارداد ایک ووٹ سے مسترد

چین، روس، فرانس سمیت 8 ممالک کی حمایت، امریکہ اور آسٹریلیا کی مخالفت۔ سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کی قرارداد ایک ووٹ سے مسترد۔ قرارداد میں فلسطینی علاقوں سے انخلا کیلئے اسرائیل کو 2017ء تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
سلامتی کونسل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی قرارداد کو ایک ووٹ سے مسترد کر دیا گیا۔ قرارداد کے حق میں 8، مخالفت میں 2 ووٹ ڈالے گئے، 5 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، اس طرح قرارداد کو مطلوبہ 9 ووٹ نہیں مل سکے۔ اس قرارداد کی مخالفت صرف امریکہ اور آسٹریلیا نے کی۔ اس میں سے اول الذکر امریکہ کی مخالفت اس کا دہرا کردار واضح طور پر اجاگر ہوا ہے۔ امریکی ترجمان کے بقول امریکہ سب سے زیادہ دنیا بھر میں اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے کوشاں ہے تو پھرمشرق وسطیٰ میں مستقل امن کی ضمانت بننے والی  قرارداد کی مخالفت کیوں؟ اسکی واحد وجہ اسرائیل ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکی حمایت یافتہ عرب حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود علاقے کا پولیس مین بنا ہوا ہے اور امریکہ اپنے اس چہیتے کو کسی بھی قیمت پر ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ بعض دوست ممالک کے مطابق یہ قرارداد عجلت میں پیش کی گئی۔ اس قرارداد کے نامنظور ہونے کے بعد دیکھنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان موجود تنازع اب کونسی کروٹ لیتا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ امریکہ ایسے ہی اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں اپنے دوستوں سے دور ہوتا جا رہا ہے اور علاقہ میں عرب اسرائیل اختلافات ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کی ناکامی کے باوجود یہ فلسطینی عوام کیلئے ایک بڑی فتح بھی ہے انکے مؤقف کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔