تیل پر جی ایس ٹی عوامی ریلیف پر قدغن منافع خور بھی بے لگام

ایڈیٹر  |  اداریہ
تیل پر جی ایس ٹی عوامی ریلیف پر قدغن منافع خور بھی بے لگام

وزیراعظم نواز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا۔ اسکے مطابق پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 25 پیسے کمی کی گئی جبکہ اس اعلان سے قبل اسکی قیمت پر جی ایس ٹی میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا گیا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت پچھلے چند ماہ کے دوران 106 ڈالر فی بیرل سے گر کر 48 ڈالر پر آ گئی۔ اس حوالے سے پاکستان میں فی لٹر قیمت 50 روپے سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ ایک تو عالمی مارکیٹ میں ان مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام کو نہیں دیا جا رہا دوسرے اگر کچھ ریلیف دیا بھی گیا ہے تو اس میں بھی جنرل سیلز ٹیکس کی مینگنیاں ڈال دی گئی ہیں۔ تین چار ماہ میں پٹرول کی قیمتیں عالمی سطح کیمطابق تو کم نہیں ہوئیں تاہم ان میں خاصی کمی ضرور ہوئی ہے۔ اسکے ثمرات عوام تک منتقل نہیں ہو رہے۔ کرایوں اور مہنگائی میں اسی نسبت سے کمی ہونا چاہئے تھی مگر منافع خوروں نے کرپٹ انتظامیہ کی آشیرباد سے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک کلو چینی کی قیمت میں گذشتہ 8 دنوں کے دوران 4 روپے اضافہ ہوا۔ یہ 53 سے بڑھ کر 57 روپے کلو ہو گئی جبکہ ملک میں کرشنگ سیزن جاری ہے۔ 16 کلو گھی کا کنستر گذشتہ 3 دنوں کے دوران 10 روپے اضافے سے 2460 روپے، درجہ دوم 50 روپے اضافے سے 2290 روپے اور درجہ سوم70 روپے اضافے سے 2160 روپے تک پہنچ گیا۔ آٹا سستا ہونے کے باوجود تندور مالکان اب بھی سادہ روٹی 6 روپے سے 8 روپے جبکہ سادہ نان اور خمیری نان 10 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ پولٹری مافیا نے صرف ایک دن میں ایک کلو برائلر مرغی کی قیمت میں 9 روپے اضافہ کر دیا جس سے اسکا ریٹ 229 روپے سے بڑھ کر 238 روپے ہو گیا ہے اور ایک درجن انڈے 116 روپے میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
 پریس کانفرنس میںوزیراعظم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرایوں اور مہنگائی میں کمی پٹرولیم مصنوعات میں کمی کیمطابق نہیں ہوئی۔ یہ کام کس نے کرنا ہے؟ یہ حکومت کا کام ہے۔ وزیراعظم کا بیان ثابت کرتا ہے کہ انکی پارٹی کی گورننس ڈھیلی ہے۔ اس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تبھی عوام کو حکومت کی طرف سے دیا جانیوالا ریلیف منتقل ہو گا۔ دوسری صورت میں عوامی مایوسی میں اضافہ ہو گا جو جمہوری حکمرانوں کیلئے نیک شگون نہیں۔