سندھ کے بعد پنجاب میں بھی حلقہ بندیاں کالعدم

ایڈیٹر  |  اداریہ

لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں سیکشن آٹھ اور نو کو آئین سے متصادم اور پنجاب حکومت کی طرف سے کی گئی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں۔ عدالت نے حکومت کو حلقہ بندیوں سے متعلق نئی قانون سازی اور الیکشن کمیشن کو فوری طور پر نئی حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا۔ مختصر فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں تاخیر نہ کی جائے۔
ہائیکورٹ میں حکومت کی طرف سے کی گئی حلقہ بندیوں کیخلاف چار سو سے زائد درخواستیں دائر ہو چکی تھیں۔ حلقہ بندیاں حکومت کا نہیں الیکشن کمشن کا کام ہے تاہم الیکشن کمیشن نے افرادی قوت کی کمی کا جواز پیش کیا تو بقول رانا ثناءاللہ لاہور ہائیکورٹ ہی نے یہ اختیار حکومت کو دے دیا۔ اعتراضات کی نوبت اس لئے آ گئی کہ حکومت نے من مرضی کی حلقہ بندیاں کر لیں۔ بلدیاتی الیکشن کیلئے جو قانون سازی کی گئی اس میں حلقہ بندیوں کیخلاف اپیل کیلئے کوئی فورم ہی نہ رکھا گیا۔ اگر حکمران اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کرینگے جیسا سندھ اور پنجاب میں گیا تو عدلیہ کو نوٹس لینا پڑتا ہے۔ یہ دونوں حکومتیں اپنے گزشتہ دور کے دوران اور اب بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں ٹال مٹول کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کیخلاف اپیل نہیں کرینگے تاہم مطلوبہ قانون سازی میں 6 ماہ سے ایک سال لگ سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے بعض معاملات پر ایک ہی دن میں میں قانون سازی ہوتی دیکھی گئی ہے جس معاملے کو لٹکانا ہے اس کیلئے حکومت کو ایک سال چاہئے۔ بہتر ہے کہ پنجاب اور سندھ حکومتیں کسی بہانہ بازی کے بغیر عدلیہ کے احکامات پر خود اپنی ہی تجویز کردہ تاریخوں پر بلدیاتی الیکشن کراکے ایک آئینی فریضہ میں سرخرو ہو کر عوام کی صحیح نمائندگی کا حق ادا کریں۔