دعوے بڑے لیکن خیبر پی کے میں زیرو

ایڈیٹر  |  اداریہ

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان کھوسہ نے کہا ہے کہ خیبر پی کے حکومت نے پولیس کو سہولتیں نہ دیں تو اہلکار ہتھیار پھینک کر انکے محلات تک پہنچ جائینگے اور پھر حکمرانوں سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہےگا۔ 2013ءکے عام انتخابات میں عمران خان کو صوبہ خیبر پی کے میں حکومت سازی کا موقع ملا۔ عمران خان نے دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد کر کے خیبر پی کے میں حکومت سنبھالی لیکن 6 مہینے گزرنے کے باوجود عمران خان ایک صوبے کی قسمت نہیں بدل سکے۔ ابھی تک خیبر پی کے میں پٹواری سسٹم ختم ہُوا نہ ہی عوام کو تھانہ کلچر سے نجات ملی، نظامِ تعلیم میں کوئی تبدیلی آئی نہ ہی کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جا سکا لیکن اسکے باوجود عمران خان بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ ایک صوبے میں پولیس والے اپنے حقوق کیلئے عدالت میں پہنچ گئے، خان صاحب سے خیبر پی کے میں پولیس نہیں سنبھالی جا رہی۔ اگر عمران خان کو پورے ملک میں اقتدار ملے تو کیسے سنبھال سکیں گے؟ عمران خان کہتے ہیں کہ بھارت میں ”عام آدمی پارٹی“ تحریک انصاف سے متاثر ہو کر بنی ہے۔ جناب عام آدمی پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے وعدوں کو پورا کر دکھایا ہے۔ 20 ہزار لیٹر تک پانی ہر خاندان کو ملے گا جبکہ 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے کو آدھا بل دینا پڑیگا لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا لہٰذا مہنگائی کیخلاف مظاہرے کرنے اور نیٹو کیخلاف دھرنے دینے سے زیادہ ضروری کام عوام کو مسائل سے چھٹکارا دلوانا ہے۔ عمران خان خیر پی کے، کے عوام کو مسائل سے نکال کر دیگر صوبوں کے مسائل کی بات کریں تو اس میں وزن ہو گا ورنہ انکے نعرے بھی دیگر سیاستدانوں جیسے ہی رہیں گے۔