نواز شریف کا امریکہ افغانستان سکیورٹی معاہدے میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان ....وزیراعظم ملکی سلامتی کے تقاضوں کو بہر صورت پیش نظر رکھیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی معاہدے میں مداخلت نہیں کرے گا۔ 2014ءکے بعد امریکی اڈوں کے بارے میں فیصلہ افغان حکومت خود کرے گی۔ افغان صدر کرزئی کی جانب سے پاکستان میں مُلا برادر سے ملاقات کیلئے جو بھی شخص بھیجا جائے گا اسے ملاقات کی اجازت ہو گی، ہم افغان صدر کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔ ہفتے کے روز کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغان امن معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔ ہم مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول پاکستان اور افغانستان مشترکہ روایات کے حامل اور برادر اسلامی ملک ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مذہب، ثقافت اور تاریخی رشتے میں بندھے ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پُرامن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ افغان صدر کرزئی نے اس موقع پر کہا کہ ہم دونوں ممالک کو دہشت گردی سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں، ہمارا واضح مو¿قف ہے کہ دہشت گردی دونوں ممالک کیلئے خطرناک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے تجارت، معیشت، انسداد دہشت گردی اور علاقے میں امن و استحکام اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگر پڑوسی ممالک مذہبی، جغرافیائی اور علاقائی حوالے سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں اور اسی بنیاد پر ایک دوسرے کی معاونت سے ایک دوسرے کو مضبوط اور خوشحال بنانے کی خواہش رکھتے ہوں تو کسی خطے کے لئے اس سے زیادہ مثالی اور سازگار فضا اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس تناظر میں اگر قیامِ پاکستان کے دن سے ہی برادر اسلامی پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان اور افغانستان کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہوجاتے تو ان دونوں ممالک کی سرزمین پر قدرت نے دھاتوں، تیل اور گیس کی شکل میں جو خزانے فراہم کر رکھے ہیں انہیں باہمی تعاون سے بروئے کار لا کر اس علاقے کا مقدر سنوارا جا سکتا تھا جبکہ دونوں ممالک خطہ کی ایک طاقت بن کر دنیا کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کا پیغام دیتے تو کسی بیرونی قوت کو اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے حصول کیلئے ہمارے خطے کو اپنی سازشوں کی آماجگاہ بنانے کی جرا¿ت نہ ہوتی مگر شروع دن سے بگاڑ تو افغان حکمرانوں نے ہی پیدا کر دیا تھا۔ بھارت تو ہمارا اس لئے مخالف تھا کہ اُس کے وجود کو کاٹ کر پاکستان کی تشکیل عمل میں آئی تھی جس سے ہندو لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے سنہرے سپنے بھی ٹوٹ گئے تھے جبکہ تشکیل پاکستان کے بعد افغان حکمرانوں نے تو پاکستان کے ساتھ خدا واسطے کا بیر مول لیا اور اس وقت کے افغان صدر ظاہر شاہ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کیلئے ووٹنگ کے مرحلہ میں سب سے آگے بڑھ کر پاکستان کے خلاف ووٹ دیا جس کے بعد پاکستان کو افغان سرحدوں کی جانب سے کبھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا نہیں آیا۔ طالبان کے دور میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے کشیدگی کے معاملہ میں تھوڑا سا ریلیف ملنے لگا تو اس دور کو ہی علاقائی امن و سکون غارت کرنے کی بنیاد بنا دیا گیا۔ امریکی نائین الیون کے بعد نیٹو فورسز کے ذریعے امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ افغان سرزمین پر منتقل کی تو اس کے بعد سے آج تک ہمیں سُکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہو سکا۔
اگر طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے عبوری حکمران اور پھر امریکی بیساکھیوں کے سہارے کابل کے اقتدار پر براجمان ہونے والے حامد کرزئی عظیم افغان روایات کی پاسداری کرتے ہوئے نیٹو فورسز کو افغان سرزمین پر قدم جمانے کا موقع فراہم نہ کرتے اور اندرونی خلفشار روکنے کیلئے برادر مسلم پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی معاونت حاصل کر لیتے تو آج نہ افغان سرزمین برباد نظر آتی اور نہ ہی ہمیں اپنی سلامتی کیلئے کوئی خطرہ لاحق ہوتا۔ مزید بدقسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان کے جرنیلی آمر مشرف نے بھی امریکہ کی ایک ٹیلی فونک دھمکی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے اور اس کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کر کے کرزئی ہی کی طرح پاکستان کی سرزمین پر بھی امریکہ کی لاجسٹک سپورٹ کا دروازہ کھول دیا۔ فطری طور پر کرزئی اور مشرف کی ان پالیسیوں کے ردعمل میں اس سرزمین پر دہشت گردی کو فروغ حاصل ہونا شروع ہوا جس کی جڑیں پہلے ہی یہاں فرقہ ورانہ اختلافات کی شکل میں موجود تھیں۔ امریکہ نے تو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اس سرزمین کو اپنی جنگ کا مرکز بنا کر اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کا انتظام کر لیا مگر ہماری اپنی سلامتی اور خود مختاری داﺅ پر لگ گئی جو آج بھی ڈرون حملوں اور ایبٹ آباد اپریشن جیسی کارروائیوں کے ذریعے چیلنج ہو رہی ہے جبکہ اس جنگ کے دوران ہمارے برادر مسلمان پڑوسی ملک افغانستان نے عملاً ہمارے ساتھ دشمن ملک جیسا برتاﺅ کیا ہے، ہماری سرزمین پر ڈرون حملوں اور نیٹو فورسز کی دوسری فضائی اور زمینی کارروائیوں کا افغانستان کی جانب سے ملنے والی ائر بیسز کی سہولت کے باعث ہی آغاز ہُوا تھا جبکہ اس وقت کرزئی بھی امریکی لب و لہجے میں پاکستان پر دہشت گردی کے فروغ کا الزام دھرتے نظر آتے تھے حالانکہ دہشت گردی کے تمام محفوظ ٹھکانے افغانستان میں قائم ہو چکے تھے۔
کابل انتظامیہ نے صرف امریکی نیٹو افواج ہی نہیں، ہمارے روایتی دشمن بھارت کو بھی ہماری سالمیت کے خلاف اپنی سازشوں کے جال بُننے کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کی سہولت دے دی نتیجتاً بھارت نے افغانستان کے بعض چھوٹے شہروں میں بھی اپنے قونصل خانے قائم کئے دہشت گردی کیلئے پاکستان میں داخل ہو کر اسلحہ بھی افغان ساختہ استعمال کیا جس کے ہماری ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں، صرف اس پر ہی اکتفا نہیں ہُوا بلکہ انتہا پسندوں کے روپ میں گروہ در گروہ دہشت گرد افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوتے اور یہاں ہماری چیک پوسٹوں پر باقاعدہ جنگ کی شکل میں حملے کرنے کی سہولت پاتے رہے، اس وقت ہی کرزئی کو احساس ہونا چاہئے تھا کہ وہ علاقائی خلفشار پیدا کر کے اپنے ملک کی سلامتی کو بھی داﺅ پر لگا رہے ہیں اس کے برعکس پاکستان کی جانب سے رسمی احتجاج کے سوا افغانستان کے معاملہ میں کبھی ایسی پالیسی اختیار نہیں کی گئی جو اس کے ساتھ نفرتوں کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہو۔ اس سال کرزئی اسلام آباد آئے تو ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اور ان کے ساتھ اقتصادی تعاون کے متعدد معاہدے بھی کئے گئے اس کے باوجود کرزئی کی زبان میں ہمارے لئے مٹھاس پیدا نہ ہو سکی، اب اپنے اقتدار کی دو ٹرموں کی تکمیل کے مراحل میں انہیں ان کے پیدا کردہ حالات میں نیٹو فورسز کی مسلسل مزاحمت کرنے والے افغان باشندوں کی جانب سے اپنی زندگی کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو وہ نہ صرف افغان عوام سے ہمدردی جتانے کی خاطر امریکہ کو آنکھیں دکھاتے نظر آتے ہیں بلکہ ہماری جانب بھی کشادہ پیشانی کے ساتھ معاونت کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں، اگر باہمی تعاون کا یہی معاملہ دس سال قبل طے کرلیا جاتا تو آج ہم اپنی سلامتی کیلئے فکرمند نظر نہ آتے۔ اس کے باوجود ماضی میں جو ہُوا سو ہُوا اگر اب بھی برادر مسلم پڑوسی ملک ہونے کے ناطے کابل انتظامیہ پاکستان کے ساتھ اخلاص کے ساتھ اقتصادی، دفاعی تعاون کا سلسلہ جوڑ لے تو اپنے استحکام اور خطے کی ترقی و خوشحالی کیلئے جو مقاصد ماضی میں حاصل ہو سکتے تھے وہ آج بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کابل انتظامیہ نے مستقبل کی کیا حکمت عملی طے کرنی ہے اس کا افغان حکمرانوں کی دانش پر ہی انحصار ہے ۔ہمیں بہرصورت یہ سوچنا ہو گا کہ اگر امریکہ اور افغانستان کے مابین سکیورٹی معاہدے کے تحت افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے بعد بھی اگلے دس سال تک امریکی افواج افغان دھرتی پر موجود رہتی ہیں تو اس سے ہمیں اپنی سلامتی اور خود مختاری کی کیسے ضمانت مل پائے گی۔ دہشت گردی کا خاتمہ یقینا افغانستان کی طرح ہماری اپنی بھی ضرورت ہے مگر کابل انتظامیہ کی کسی پالیسی کے نتیجہ میں یہاں دہشت گردی کو مزید فروغ حاصل ہو گیا تو ہمارے لئے ”نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن“ والی کیفیت بن جائے گی۔ میاں نواز شریف دورہ¿ کابل کے بعد ملک واپس آ چکے ہیں انہیں اس دورہ کے موقع پر کئے گئے تمام فیصلوں سے پارلیمنٹ اور قوم کو آگاہ کرنا چاہئے کیونکہ بھارت کےساتھ تعلقات کے معاملہ میں ان کے کردار کے حوالے سے قوم میں پہلے ہی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے راجہ ظفر الحق چیئر مین مسلم لیگ(ن) نے بھارت کیساتھ تعلقات کی بحالی کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔