عمران خان ڈرون کیخلاف تنہا پرواز مت کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ

 تحریک انصاف کے زیر اہتمام ڈرون حملوں کیخلاف جاری احتجاجی تحریک کے آٹھویں روز بھی صوبے کے چار اضلاع میں پانچ مقامات پر نیٹو سپلائی روکنے کیلئے دھرنا جاری رہا۔اب 5 دسمبر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے تحریک انصاف کی خیبر پی کے حکومت احتجاج کرے گی۔عمران خان بڑے زور و شور سے نیٹو سپلائی روکنے کے لئے میدان میں اترے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔عمران خان نے پشاور میں جلسہ کرکے دوبارہ وہاں جانا مناسب ہی نہیں سمجھا جس کے باعث انکے کارکنان نے حیات آباد اور دیگر جگہوں پر دھرنے دیکر نیٹو سپلائی لیجانے والے کنٹینروں کے ڈرائیورکوزود کوب کیا اور یوںطوفان بد تمیزی برپا ہوا۔ عمران خان کی پارٹی کے سپلائی روکنے کے باوجود دیگر متبادل راستوں سے سپلائی جاری ہے اور اسی دوران ہنگو میں دو مرتبہ ڈرون حملے بھی ہوچکے ہیں اب عمران خان 5دسمبر کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کرچکے ہیں انہیں ملک میں افراتفری پھیلانے کی بجائے پارلیمنٹ میں آواز بلند کرناچاہئے انکے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے جبکہ قومی اسمبلی سمیت صوبائی اسمبلیوں میں انکے ممبران موجود ہیں انہیں سڑکوں پر احتجاج کی بجائے پارلیمنٹ میں ڈرون کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے اور تنہا پرواز کی بجائے دیگر سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر کوئی مستقل لائحہ عمل تشکیل دیناچاہئے۔ اب جبکہ امریکہ کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہوچکے ہیں وہ ایران کے راستے نیٹو سپلائی بھی لیجاجاسکتا ہے اور وہاں سے انہیں سپلائی سستی بھی پڑتی ہے اگر امریکہ نے وہاں سے نیٹو سپلائی شروع کردی تو خیبر پی کے میں یو ایس ایڈ کی مدد سے جاری ترقیاتی منصوبے بھی یقینا متاثر ہونگے ۔لہٰذا عمران خان اپنی صوبائی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر افہام و تفہیم سے کوئی نیا راستہ تلاش کریں تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔