بلاول بھٹو زرداری پہلے تو لیں پھر بولیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے 46 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جاگیردار، سرمایہ دار کھلاڑی یا ملا کی جماعت نہیں ۔یہ وہی ہے جو پہلے تھی ہم پرائیویٹائزیشن کے نام پر قومی اداروں کی پرنسلائزیشن نہیںہونے دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری گرچہ عمر کے لحاظ سے ابھی طفل مکتب ہیں لیکن انہیں پارٹی اجلاسوں اور جلسوں سے خطاب کرتے وقت یہ یاد رکھناچاہئے کہ وہ ایک قومی پارٹی کے چیئر مین ہیں ۔ ان کے بولے ہوئے الفاظ کا ملکی سیاست پر بڑا اثر پڑتا ہے گزشتہ روز پارٹی کے 46 ویں یوم تاسیس پرانہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور بلا سوچے سمجھے الزام تراشی شروع کردی۔اداروں کو قومی تحویل میں رکھنے کا کیا نقصان ہوا ہے بلاول بھٹو زرداری کو ذرا اس طرف بھی دیکھناچاہئے تھا۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا ہے کہ بلاول الزام تراشی سے پہلے حقائق کو دیکھیںانہیں بحیثیت قومی سیاسی پارٹی کے چیئر مین کے حقائق سے ہٹ کر بات بھی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ وہ سب سے پہلے اپنی پارٹی کی صف بندی کریں اس وقت انکی پارٹی تتر بتر ہورہی ہے اور بقول ناہید خان پیپلز پارٹی اپنی مصنوعی قیادت کی وجہ سے ایک صوبے تک محدود ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ تقریب میں کارکنوں کے لڑائی جھگڑے سے یوں لگتا ہے کہ کارکنان پرانے زخموں کا بدلہ لے رہے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے قیام کے وقت بے شک کسی جاگیر دار یا سرمایہ دار کی جماعت نہیں مگر اب اوپر سے نیچے تک پارٹی کے ہر عہدیدار کو دیکھاجائے تو ان میں ایک بھی عام کارکن یا غریب آدمی نہیں بلکہ سبھی جاگیر دار اور سرمایہ دار شامل ہیں اگر بلاول بھٹو پارٹی کو غریبوں کی جماعت بناناچاہتے ہیں تو پھر غریبوں کو پہلے مرکزی عہدوں میں حصہ دیں اور پھر بات کریں۔