مولانا فضل الرحمان کا مینار پاکستان کے سائے تلے

 قائداعظم کے پاکستان کو مضبوط اسلامی فلاحی مملکت بنانےکا عزم محض انتخابی سیاسی نعرہ یا منزل بھی ؟

جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ 1940ءکی قرارداد پاکستان کی تجدید کر رہی ہے۔ 23 مارچ 1940ءکو مسلم ریاست کا تصور پیش کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے اس ریاست کو اسلامی ریاست نہیں بننے دیا۔ گزشتہ روز مینار پاکستان کے سایہ تلے جمعیت علماءاسلام کے ایک بڑے جلسہ¿ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ مضبوط اور فلاحی مملکت کا قیام صرف اسلامی نظام سے ہی ممکن ہے۔ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک ہمیں قائداعظم نے بنا کر دیا‘ وہ آج ہمارے پاس نہیں۔ آج ہم داخلی انتشار کا شکار ہیں اور بچے کھچے پاکستان میں ایک قوم کی حیثیت سے نہیں رہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کا امن پاکستان بھارت پرامن تعلقات میں چھپا ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جو ہماری ترجیح اور خارجہ پالیسی کا اہم جزو تھا‘ اسے چھوڑ کر افغانستان کو بڑا مسئلہ بنا دیا گیا جس کا انکشاف مجھ پر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج میں بھرتی ہونیوالا ہر جوان فقط ایک دشمن بھارت سے واقف تھا اور اسے بڑا خطرہ تصور کرتا تھا مگر آج مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر دہشت گردی کو بڑا دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ حکمران عالمی اثر و رسوخ کے تحت ملک کے بجائے عالمی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اور دیگر ممالک سے گیس کے حصول کے معاہدے محض کمیشن کے حصول کیلئے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت کو اپنے دریاﺅں پر ڈیم بنانے کی اجازت دینے والے قومی مجرم نہیں؟ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہی ان پر یہ حقائق واضح ہوئے کہ ہمارے اداروں کی غفلت کے نتیجے میں بھارت نے ہمارے دریاﺅں پر ڈیمز بنائے ہیں۔ جب ملک میں پانی ہی نہیں ہوگا تو ہماری زراعت اور صنعتیں ترقی کیسے کرینگی؟ انہوں نے متعدد دیگر قومی ایشوز پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کا یہ جلسہ¿ عام جسے اسلام زندہ باد کانفرنس کا نام دیا گیا‘ اس جماعت کی انتخابی مہم کا حصہ ہے لہٰذا مولانا فضل الرحمان نے دوٹوک الفاظ میں جس طرح قرارداد پاکستان اور اسکی بنیادپر قائداعظم کی زیر قیادت پاکستان کی تشکیل کا تذکرہ کیا اور قائداعظم کے تصورات کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے عزم کا اظہار کیا‘ وہ جمعیت علماءاسلام کے ماضی کے پس منظر میں ایک خوش آئند اقدام اور مثبت سوچ کی طرف تبدیلی ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ مینار پاکستان کے سائے تلے 1940ءکی قرارداد پاکستان کی تجدید کا عہد کرکے مولانا فضل الرحمان نے درحقیقت قائداعظم کی لیڈر شپ اور پاکستان کی حقانیت کو تسلیم کیا ہے‘ جبکہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرکے اور پاکستان کے دریاﺅں پر بھارتی ڈیمز کی تعمیر کا تذکرہ کرکے انہوں نے بطور کشمیر کونسل چیئرمین اپنی غیرموثر کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے قائداعظم کے ارشادات کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو چاہے سیاسی مقاصد اور ووٹرز کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے ارادے کے تحت ہی سہی‘ قیام پاکستان کے حوالے سے انکے بزرگوں‘ جمعیت علماءاسلام اور انکے اپنے سابقہ مو¿قف کی روشنی میں انکی کایا آخرکار 65 سال بعد اور عام انتخابات سے صرف 40 دن قبل اتفاقی طور پر پلٹی نظر آتی ہے۔ پاکستان کی انتخابی سیاست میں بلاشبہ ماضی میں بھی مولانا فضل الرحمان کا نمایاں کردار رہا ہے اور مینار پاکستان پر دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بڑے جلسے کا انعقاد کرکے انہوں نے اپنے مستقبل کے ممکنہ سیاسی کردار کی بھی بنیاد رکھ دی ہے لیکن مولانا کی جماعت کے اسلامی قواعد پر بظاہر قائم رہنے کے وعدے کے باوجود‘ پاکستان کی گہری مذہبی دلچسپی رکھنے والی کثیر تعداد نے مولانا کی جماعت کو چند سیٹوں سے زائد کی نمائندگی عطا کرنے کے لائق نہیں سمجھا‘ دیگر دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں‘ جن میں پی ایم ایل (ن) شامل ہے‘ دونوں کی نسبت جے یو آئی کے برعکس ”کنگ میکر“ نہیں‘ ”کنگ“بننے کی پوزیشن میں ہے۔ اسلامی ممالک سے ہمدردی ظاہر کرنے کے باوجود مولانا نے پاک ایران گیس پائپ لائن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ”ڈرامہ“ قرار دیا جو شاید امریکی حکام کی تنقید سے ملتے جلتے نظریات کی نشاندہی کرتی ہے۔ بظاہر تو مولانا کی تقریر الیکشن سسٹنٹ کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی ایسی پارٹی نہیں جس نے پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنانے کا وعدہ نہ کر رکھا ہو۔ اب وعدے نہیں‘ کارکردگی پر ووٹ ڈالے جائینگے۔ قائد اور اقبال کا پاکستان ہر پاکستانی کے دل میں آباد ہے۔ اس کا منشور کوئی بھی سیاسی پارٹی‘ بشمول جمعیت کے‘ پہلی مرتبہ پاکستانیوں کو پیش نہیں کر رہی‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ بانیانِ پاکستان سے آج تک ہم نے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کتنی محنت کی اور کتنا وقت محض وعدے دہرانے میں لگا چھوڑا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں بالخصوص کشمیر اور پاکستان کے دریا بھارت کے حوالے کرنے کی سازشوں کا جس واضح انداز میں تذکرہ کیا‘ وہ یقیناً خوش آئند ہے تاہم وہ اپنے آپ کو بھی بھارت کے ساتھ کشمیر اور اپنے دریاﺅں پر سودے بازی کرنیوالے سابقہ حکمرانوں میں شاملِ فہرست سمجھیںاگر وہ حکومتی اتحاد میں اپنی موجودگی کے دوران ملک کی قومی خارجہ پالیسیوں کی سمت درست کرنے پر زور دیتے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر پر دہشت گردی کی جنگ کو ترجیح نہ دینے کی پالیسی کی مزاحمت کرتے تو سابقہ حکمرانوں کی جانب سے کشمیر ایشو کو الگ تھلگ رکھ کر بھارت سے تعلقات بڑھانے کی احمقانہ پالیسی دیکھنے کو نہ ملتی۔ اب انہیں کشمیر اور اپنے دریاﺅں پر خود ڈیمز بنانے کی سوچ کو اپنی انتخابی مہم تک محدود کرنے کے بجائے اپنی پارٹی کی مستقل پالیسی بنانا چاہیے اور ان بنیادی قومی ایشوز پر مثبت پیش رفت سیاست کرنی چاہیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ علاقائی امن و سلامتی اور پاکستان بھارت خوشگوار تعلقات مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی وابستہ ہیں اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ پر نہیں آرہا تو ہمیں اپنی سلامتی کے تحفظ کی خاطر اپنی شہ رگ کشمیر کو بہرصورت دشمن کے پنجے سے آزاد کرانا ہے۔ یہ کام بھارت کے عزائم کا توڑ کرکے ہی سرانجام دیا جا سکتا ہے جس کیلئے بھارت کے ساتھ یکطرفہ دوستی اور تجارت کی خواہش کو مسئلہ کشمیر کے حل تک ہمیں ترک کرنا ہو گا۔ اگر جمعیت علماءاسلام (ف) کی طرح دیگر جماعتیں بالخصوص پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ بھی پاکستانیت کو اپنی سیاست کا محور بنالے تو بھارت سمیت کوئی بیرونی دشمن ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔