ایف بی آر ریونیو ہدف کو پورا کرے

مالی سال 2012-13 کے 9 ماہ کے دوران ایف بی آر کو ریونیو میں مقررہ ہدف کے 32 فیصد 575 ارب وصول کرنے میں ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ مالی سال کے اختتام تک ریونیو خسارہ 768 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ کسی بھی ملک کو چلانے کیلئے ریونیو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریونیو ہدف کو دیکھ کر ہی بجٹ تیار کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں جب ریونیو کا ہدف ہی پورا نہیں کیا جا سکے گا تو پھر بجٹ کو عوام کی امنگوں کے مطابق کیسے بنایا جا سکے گا۔ 2012-13 کے مالی سال میں ریونیو اکٹھا کرنے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا تیسری سہ ماہی گزرنے کو ہے لیکن اس ہدف کو پورا نہیں کیا جا سکا۔ پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں 35 ارب کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ امید تھی کہ حکومت دوسری سہ ماہی اس خسارے پر قابو پا کر اپنے مقررہ ہدف کو پورا کرے گی لیکن یوں دوسری سہ ماہی میں بھی 131.99 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تیسری سہ ماہی بھی ختم ہو چکی ہے اس میں 250.31 ارب روپے کی وصولیاں نہیں کی گئیں اگر اسی طرح سلسلہ جاری رہا تو پھر مالی خسارے کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ریونیو حکام ہوش کے ناخن لیں اور مقررہ ہدف کو پورا کرنے کی کوششیں کریں تاکہ بعد میں مشکلات سے بچ سکیں۔