امریکی معذور فوجی کا سابق صدر بش اور ڈک چینی کے نام خط

عراق پر جارحیت ہر لحاظ سے ناکام جنگ تھی۔ مسٹر بش میں تو مر رہا ہوں۔ اب تمہاری اور ڈک چینی کی باری ہے۔ بستر مرگ پر پڑے امریکی فوجی کا نوحہ۔ عراق میں مرنے اور زخمی ہونیوالے فوجیوں کی تمام تر ذمہ ان دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ خمیازہ بھی انہیں بھگتنا ہو گا۔ سابق امریکی صدر اور نائب صدر کو خط عراق جنگ میں دونوں ٹانگیں کھونے والے 33 سالہ فوجی ٹامس ینگ کا زندگی ختم کرنے کا فیصلہ۔ کھانا‘ پینا چھوڑ دیا۔ امریکہ کا عراق پر ایٹمی اور کیمیاوی ہتھیار رکھنے کے الزام کے بعد حملہ اور بلاجواز ایک پرامن ملک کو ہزاروں ٹن خطرناک بارود اور اسلحہ کے زور پر کھنڈرات بنا دینا اور لاکھوں بے گناہ عراقی عوام کے قتل عام میں ملوث ہوناانسانیت کیخلاف ایک بہت بڑا جرم تھا۔ اس جنگ میں امریکہ کے بھی سینکڑوں فوجی مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ طویل تھکا دینے والی اس جنگ سے سینکڑوں امریکی فوجی اعصابی اور نفسیاتی مریض بن گئے۔ یہی حال عراقی کے لاکھوں شہریوں کا بھی ہوا۔ اب خود ایک امریکی زخمی فوجی جو جنگ میں دونوں ٹانگوں سے محروم ہو چکا ہے اور بھوک ہڑتال پر ہے نے بستر مرگ سے سابق صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی کے نام جو مراسلہ لکھا ہے۔ اس سے امریکن پالیسی سازوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو دوسرے ممالک پر بلاجواز جنگ تھوپنے میں مشغول رہتے ہیں۔ آج خود امریکہ کے شہری اور سابق فوجی جنگ کی ذمہ داری امریکہ پر ڈال رہے ہیں۔ایسی صورتحال افغان جنگ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے جس میں امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا ہے اور یہ صورتحال اس جنگ میں برسر پیکار امریکی فوجیوں کیلئے بھی سوہانِ روح بن چکی ہے جن میں اسی تناظر میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ آدھے سے زیاہ امریکی فوجی نیم پاگل ہو چکے ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کو اس بارے میں عالمی امن اور انسانی ہمدردی کے ناطے سوچنا چاہئے کہ اس جنگ میں خود اسکے شہری اور فوجی بھی ہلاک و زخمی ہو رہے ہیں اور انکے اہلخانہ بھی صدمے سہہ رہے ہیں کیا انہیں اس تکلیف دہ صورتحال سے بچانا امریکہ کی ذمہ داری نہیں۔معذور امریکی فوجی کے خط میں واشنگٹن انتظامیہ کیلئے بھی سبق ہے کہ وہ افغانستان میں شروع کی گئی اپنی لاحاصل جنگ سے خلاصی پالے ورنہ انسانی تباہی کا امریکہ ہی ذمہ دار ٹھہرے گا۔