بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور گروتھ ٹیلنٹ

ایڈیٹر  |  اداریہ
بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور گروتھ ٹیلنٹ

پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں بجلی کا گردشی قرضہ 500 ارب روپے سے بھی تجاوز کرگیا ہے کمیٹی اراکین گردشی قرضہ کا سن کر ہکا بکا رہ گئے کیونکہ کمیٹی نے کہا کہ حکومت نے آتے ہی 430 ارب روپے ادا کئے اور آئندہ گردشی قرضہ نہ ہونے کے دعوے کئے گئے تھے۔کمیٹی میں اپوزیشن ارکان نے کہا کہ حکومتی نااہلی کی وجہ سے قرضے بڑھے ہیں۔
2013ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پہلا قدم 430 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کر کے اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ گردشی قرضوں کا صفحہ ہی پھاڑ دینے کا اعلان کیا گیا مگر بدقسمتی سے آج قرضوں کی مالیت 500 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے جو افسوسناک اور متعلقہ اداروں کی مایوس کن کارکردگی کا کھلا اظہار ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ موجود نہیں ہے ٹیلنٹ یقیناً ہے جس کا اظہار گزشتہ سال امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ سے ہوتا ہے، اس جریدے نے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایم ایس سی آئی ایکسچینج ٹریڈ فنڈ کی کارکردگی چین اور بھارت سے بھی آگے ہے۔ پاکستان کے اندر معیشت کو مستحکم کرنے کے ٹیلنٹ کا اندازہ دبئی، لندن اور امریکہ میں بانڈز کی نیلامی کے روڈشو سے بھی ہوتا ہے۔ جہاں ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز 5 سال کے لیے جاری کیے گئے، جن پر منافع کی شرح 5.625 فیصد ہو گی۔ دوسری جانب ایک ارب 50کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز 10 سال کے لیے جاری کیے گئے، جن پر شرح منافع 6.875 فیصد ہو گی۔ وزارت خزانہ کے مطابق یورو اور سکوک بانڈز کے لیے 8 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ شو کامیاب رہا ہے جس سے ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر متوقع ہیں۔
یہ ساری سرمایہ کاری فیض آباد میں دھرنے کے دوران ہوئی جب دو شہر مکمل طور پر مفلوج تھے۔ حالات سازگار ہوئے تو صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں یقیناً ٹیلنٹ موجود ہے جس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ گردشی قرضے، معاملات درست ہاتھوں کو سونپ کر کم از کم سطح پر لائے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں حکومت اگر معیشت کی مضبوطی کے دعوے کرتی ہے تو وہ بے جا نہیں ہیں۔