لاہور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا حکم اور مخالفین کی دشنام طرازی وفاقی حکومت اتفاق رائے پیدا کرے یا پنجاب حکومت خود ڈیم کی تعمیر شروع کر دے

لاہور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا حکم اور مخالفین کی دشنام طرازی وفاقی حکومت اتفاق رائے پیدا کرے یا پنجاب حکومت خود ڈیم کی تعمیر شروع کر دے


لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے دائر متعدد آئینی رٹ درخواستوں پر اپنا مختصر فیصلہ صادر کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے 1991ءاور 1998ءکے فیصلوں پر عملدرآمد کرے۔ فاضل چیف جسٹس نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ آئین کی دفعہ 154 کے تحت وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانے کی پابند ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی منصوبہ تکنیکی اور معاشی پہلوﺅں سے قابل عمل قرار دیا جائے تو اسے فرضی بنیادوں پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت کالاباغ ڈیم پر ہر طرح کے سیاسی اور دیگر خدشات دور کرکے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر انتظامی دائرہ¿ کار کے مطابق عملدرآمد کرے۔ وفاقی حکومت اس معاملہ میں پیچیدگیوں کو دانشمندی سے دور کرے۔ یہ درخواستیں سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئرمین انجینئر محمد سلیمان خان‘ جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور چار دیگر درخواست دہندگان کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں مو¿قف اختیار کیا گیا کہ آئین کی دفعہ 9 اور 14 کے تحت پانی پر سب کا حق ہے اور اگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ کی گئی تو ملک میں پانی اور بجلی کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو جائیگا اور ملک بنجر ہو جائیگا۔
فاضل عدالت عالیہ کے روبرو گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے یہ رٹ درخواستیں زیر سماعت تھیں‘ جن میں عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ مشترکہ مفادات کونسل اور چیئرمین واپڈا کو بھی نوٹس جاری کئے جن کے جوابات کی روشنی میں اور کیس سے متعلق پیش کئے گئے ریکارڈ کا مفصل جائزہ لینے کے بعد عدالت نے جو احکام صادر کئے ہیں وہ اگرچہ ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق ہیں تاہم بادی النظر میں یہ عدالت کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر نظر آتے ہیں اور یقیناً اسی بنیاد پر پیپلز پارٹی‘ اے این پی اور ایم کیو ایم کو اس فیصلہ پر تنقید کا موقع ملا ہے۔ فاضل عدالت عالیہ کو آئین کی دفعہ 199 کے تحت مفاد عامہ سے متعلق معاملات پر مفاد عامہ ہی کے تحت احکام صادر کرنے کا ضرور اختیار حاصل ہے تاہم یہ طے کرنا کہ ملک کا مفاد کیا ہے‘ بہرصورت عدالت کے دائرہ اختیار کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس تناظر میں اگر عدالت عالیہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل کے 1991ءاور 1998ءکے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کو احکام صادر کرنے تک محدود رہتی تو اس سے یہ تاثر کبھی پیدا نہ ہوتا کہ عدالت ایگزیکٹو اتھارٹی کے اختیارات بھی خود استعمال کر رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان احکام میں وفاقی حکومت اپنی اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے متذکرہ فیصلوں کو خود ہی عملی جامہ پہنا دیتی تو کسی کو اپنے مفادات کی بنیاد پر کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنانے کا موقع ملتا نہ عدالت عالیہ کو آئین کی دفعہ 154 کی جانب وفاقی حکومت کی توجہ مبذول کرانے اور ایسے احکام صادر کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی جس کی بنیادپر خود فاضل عدالت بھی تنقید کی زد میں آگئی ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے دریاﺅں پر ڈیمز تعمیر کرکے ہی ملک کو توانائی کے سنگین بحران سے نجات دلا سکتے ہیں اس لئے اس قومی ایشو پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانا اور کسی ڈیم کو متنازعہ بنانا ملکی اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ عالمی بنک کی زیر نگرانی جب سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کا تنازعہ طے کیا گیا تو پاکستان کے حکمرانوں کو اس معاہدے کے تحت اس وقت سندھ‘ جہلم اور چناب کے دریاﺅں پر پہلے ڈیمز کی تعمیر کا حق استعمال کرکے قومی معیشت کے استحکام اور ملکی ترقی کی خاطر جہاں جہاں بھی ممکن ہوتا‘ ڈیمز کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تھا مگر منگلا اور تربیلا ڈیم کے بعد ہمارے حکمرانوں کو کسی نئے ڈیم کی تعمیر کا خیال ہی نہ آیا چنانچہ ہماری جانب سے ان دریاﺅں پر کوئی نیا ڈیم تعمیر نہ ہونے کا سندھ طاس معاہدے کی رو سے بھارت نے فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنے استحقاق والے دریاﺅں کے علاوہ ہمارے حصے کے دریاﺅں پر بھی ڈیمز کے انبار لگانے شروع کر دیئے۔ بھارت کی تو شروع دن سے ہی نیت ہمارے پانی کو روک کر ہماری زرخیز دھرتی کو صحرا بنانے اور ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کی تھی اور اسی نیت سے اس نے وادی¿ کشمیر پر اپنا تسلط جمایا جبکہ ہمارے حکمرانوں کی نااہلیت اور قومی مفادات کے تحفظ سے بے نیازی کی روش نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا‘ نتیجتاً کوئی ڈیم تعمیر نہ ہونے اور بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے اقدامات سے ہمارے ملک میں توانائی کا بحران شروع ہوا جو آج اتنی شدت اختیار کر چکا ہے کہ سالہا سال سے عوام کوبجلی کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ اس سے صنعتوں کا پہیہ بھی جامد ہو چکا ہے اور ہماری زراعت بھی ملک کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اس ممکنہ بحران کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم (میانوالی) کے مقام پر ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبے پر پیپرورک شروع ہوا تھا‘ یہ وہی مقام ہے جہاں بانی¿ پاکستان قائداعظم نے 1948ءمیں ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام شروع کرنے کے احکام جاری کئے تھے۔ یقیناً قائداعظم کو بھی ملک کی توانائی کی ضرورت پورے کرنے کیلئے اپنے پانی کے وسائل بروئے کار لانے کا احساس تھا جس کیلئے انہوں نے دو مقامات کی بھی نشاندہی کردی ان میں مغربی پاکستان میں کالاباغ ڈیم (میانوالی) اور مشرقی پاکستان میں کرنافلی کا مقام شامل تھا جہاں انہوں نے ہائیڈرو پراجیکٹ پر متعلقہ اتھارٹیز کو بہت جلد کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ کرنافلی پر تو قائداعظم کے احکام کی تعمیل میں ہائیڈرو پراجیکٹ پر فوراً کام شروع ہو گیا مگر کالاباغ میں ڈیم کی تعمیر سے متعلق قائداعظم کا خواب آج تک شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکا جبکہ قائداعظم سے مخالفت کی بنیاد پر سرحد کے سرخپوش رہنما خان عبدالغفار خان کے خانوادے نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کا آغاز کیا اور جب جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے دوران کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر صوبوں میں اتفاق رائے کی فضا بنی تو خان عبدالولی خان نے اس مجوزہ ڈیم کو ڈائنامائیٹ سے اڑانے کی دھمکی دی۔
اس ڈیم کی تعمیر نہ ہونے دینا درحقیقت بھارت کے مفاد میں تھا جو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا چنانچہ اس نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کےلئے سرحدی گاندھی کے جانشینوں کو ہلاشیری دی اور اس مقصد کیلئے انکی مالی معاونت بھی شروع کر دی۔ اسی طرح بھارتی ایجنٹوں نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے بعض سندھی قوم پرست لیڈروں میں بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں بھی اس راہ پر لگا دیا‘ اس طرح قومی تعمیر و ترقی کے ضامن اس منصوبے کو متنازعہ بنا کر سیاست کی نذر کر دیا گیا۔ حالانکہ اے این پی کی جانب سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر جو اعتراضات اٹھائے گئے‘ انہیں اس وقت کے چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک نے‘ جو خود بھی نوشہرہ کے رہنے والے ہیں‘ بے معنی قرار دیا اور باور کرایا کہ کالاباغ ڈیم ملک کی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے جس سے پنجاب سے زیادہ صوبہ سرحد مستفید ہو گا۔ وہ آج بھی اپنے اس مو¿قف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسکے برعکس سیاسی مصلحتوں میں جکڑی حکومت نہ تو کالاباغ ڈیم تعمیر کر سکی اور نہ ہی کسی دوسرے ڈیم پر کام شروع کر سکی جبکہ کالاباغ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کے مراحل میں قومی خزانے سے چھ ارب روپے کے قریب رقم استعمال کی جا چکی تھی۔ اسی بنیاد پر آبی ماہرین آج بھی کالاباغ ڈیم کو قابل عمل منصوبہ قرار دیتے ہیں جن کے بقول اس ڈیم پر ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تو تین چار سال کے عرصے میں یہ ڈیم ایک حقیقت بن کر سامنے آچکا ہو گا اور ملکی معیشت کی ترقی میں معاون بن سکتا ہے۔ اس پیپر ورک کی بنیاد پر ہی مشترکہ مفادات کونسل نے 1991ءاور پھر 1998ءمیں کالاباغ ڈیم کو قابل عمل قرار دیکر اسکی تعمیر کی منظوری دی مگر پھر سیاسی مفادات آڑے آئے اور پیپلز پارٹی کے علاوہ میاں نواز شریف کی وفاقی حکومت بھی اس ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کرنے سے قاصر رہی۔ جنرل مشرف نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے کے عزم کا ضرور اظہار کیا‘ اگر انکے اعلان کے مطابق اسی وقت کالاباغ ڈیم کی تعمیر شروع کردی گئی ہوتی تو آج اسکی تعمیر آخری مراحل میں ہوتی مگر پیپلز پارٹی نے 2008ءمیں اقتدار میں آکر نہ صرف اس ڈیم کی تعمیر سے گریز کیا بلکہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں منظور کئے گئے تھرمل پاور پراجیکٹس پر کام شروع کردیا جن کا حکمران طبقات کو تو کمیشن اور کک بیکس کی صورت میں فائدہ ہوا مگر یہ منصوبے توانائی کے بحران پر قابو پانے پر قطعاً مددگار نہ ہو سکے جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے مرحل میں اے این پی کی بلیک میلنگ میں آکر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے کالاباغ ڈیم کی فائل مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اس فیصلے کو قبول کیا بلکہ اے این پی کی قیادت کو صوبہ سرحد کو خیبر پختونخواہ میں تبدیل کرنے کیلئے باچا خان کے ادھورے خواب کی تکمیل کا موقع بھی فراہم کیا‘ اسی پس منظر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت آج بھی کالاباغ ڈیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی نظر آتی ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پھر اس رائے کا اظہار کیا کہ کالاباغ ڈیم صوبوں میں اتفاق رائے سے بننا چاہیے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی‘ اے این پی اور ایم کیو ایم متحدہ کے عہدے داران تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر انتہائی سخت لب و لہجے میں تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔
اصولی طور پر تو وفاقی حکومت اب کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کے مابین اتفاق رائے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے جس کا لاہور ہائیکورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں تقاضا کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے کالاباغ ڈیم کے مخالفین کو اسکی قومی اہمیت پر استدلال کے ساتھ قائل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے اگر مسلم لیگ (ن) کے قائدین بھی اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تو یہ ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ جو کام آئین کے تحت ملک کی ایگزیکٹو اتھارٹی کے ذریعے ہی طے ہونے مقصود ہیں وہ ایگزیکٹو اتھارٹی ہی کو سرانجام دینے چاہئیں۔ بصورت دیگر آئینی اختیارات کے معاملہ میں اداروں کے مابین پیدا ہونیوالے ابہام کا ملک اور سسٹم کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑےگا۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر یقیناً ملکی اور قومی مفاد میں ہے تاہم اس کیلئے مجاز فورم پر فیصلہ کیا جائے تو وہ زیادہ مناسب ہو گا۔ اگر اب پنجاب حکومت 18ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل انپے اختیارات کی بنیاد پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا خود بیڑہ اٹھالے تو مزید کسی قانونی اور آئینی پیچیدگی کے بغیر اس ڈیم کی تعمیر ممکن بنائی جا سکتی ہے تاہم اس کیلئے مسلم لیگ (ن) کو مصلحتوں اور مفادات کی سیاست سے باہر نکلنا ہو گا۔ بہتر ہے کہ اب محض مخالفت برائے مخالفت کے بجائے قومی ترقی کے ضامن اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے تاکہ آئندہ اس پر کسی کو سیاست کرنے کا موقع نہ ملے۔