فلسطین کو اقوام متحدہ کی مبصر ریاست کا درجہ مبارک

فلسطین کو اقوام متحدہ کی مبصر ریاست کا درجہ مبارک


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ دے دیا جس سے فلسطین اب اتھارٹی کے بجائے اقوام متحدہ کی غیر رکن مبصر ریاست قرار پائی ہے۔ حمایت میں 138 اور مخالفت میں نو ووٹ آئے۔ پاکستان، فرانس اور عرب ملکوں کی بڑی تعداد نے فلسطین کی حمایت کی۔
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل فلسطین کشیدگی کا سلسلہ 48ء سے چلا آ رہا ہے۔ اسرائیل کا جب جی چاہا اس نے فلسطینی شہریوں پر اندھا دھند بمباری کی اور حملہ کرنے چڑھ دوڑا۔ اسرائیل اور اس کے ہمدردوں نے فلسطینیوں کو زیر نگیں کرنے کا ہر حربہ آزمایا، بم برسائے، تشدد کیا لیکن فلسطینی ہر آزمائش اور تشدد سے سرخرو اور سربلند ہو کر نکلے اور ہر مرگ کے بعد انہوں نے ایک نیا جنم لیا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے اسے برتھ سرٹیفکیٹ ملنا مبارک ہو۔ عرب ملکوں نے ہمیشہ امریکہ پر انحصار کرکے اپنی موہوم امیدوں کی پرورش کی جو ہمیشہ سراب ثابت ہوئیں۔ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مبصر ریاست کا درجہ دلوانے کے لئے عرب ملکوں کی کامیابی خوش آئند ہے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کا آخری چانس ہے۔ فلسطین کو نیا درجہ ملنے اور بقول محمود عباس برتھ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد عالم اسلام کو اپنے سارے تحفظات فراموش کرکے فلسطین کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے آگے آنا ہو گا تاکہ مستقبل میں فلسطینیوں کو اسرائیل کے مظالم سے بچانے کی موثر ضمانت مل سکے۔