حکومت عوام کو دھوکہ دینے کے بجائے بجلی دے

لوڈشیڈنگ کیخلاف ملک گیر مظاہرے‘ احتجاج میں مزید شدت‘ حکومتی اتحادیوں کے بھی تحفظات

بدترین لوڈشیڈنگ کےخلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت آگئی‘ واپڈا دفاتر پر حملے ہوئے‘ توڑ پھوڑ کی گئی اور متعدد دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بجلی کا شارٹ فال 6600 میگاواٹ ہونے سے صورتحال مزید گھمبیر ہوئی۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے سڑکیں بھی بلاک کر دیں۔ دریں اثنا صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت توانائی بحران پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ صدر نے ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی کیا‘ صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے نجات دی جائے۔
2008ءکے انتخابات میں عوام نے پرچی کے زور پر مشرف کی آمریت زدہ جمہوریت سے نجات حاصل کی اور زمام اقتدار جمہوریت کی بحالی کےلئے قربانیاں دینے والوںکے حوالے کر دی۔ عوام کو اپنے منتخب کردہ حکمرانوں سے توقعات بجا تھیں لیکن وہ ان پر کسی طور پورا نہیں اترے۔ ملکی صورتحال میں کسی قسم کی کوئی ہنگامی یا جنگی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی البتہ جمہوری حکمرانوں کے آتے ہی معاشی اور معاشرتی زندگی میں ایک ہلچل مچنا شروع ہوئی جو اب زلزلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سلطانی جمہور کے ساڑھے چار سالہ اقتدار کے دوران وہ کونسا بحران‘ مشکل اور بدنصیبی ہے جس کا قوم و ملک کو سامنا نہیں۔ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں‘ ڈالر 62 سے 95 کا ہو گیا‘ روپیہ رُل گیا‘ پورا ملک لاقانونیت اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور شہریوں کا لاپتہ ہونا معمول بن گیا۔ غلاموں جیسی خارجہ پالیسی نے ہر پاکستانی کا سر جھکا دیا۔ پاکستانیوں سے قومی تفاخر چھن گیا ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھا کہ آج ہر پاکستانی 65 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی اور اب مخالفین کے ساتھ انتقامی کارروائی سیاسی و جمہوری حکومت کا طرہ امتیاز ٹھہرا۔ عوام کو سب سے زیادہ جس مسئلے نے پریشان اور مشتعل کیا ‘ وہ بجلی کی جان لیوا لوڈشیڈنگ ہے۔ آج اس کا دورانیہ 16 سے 20 اور بعض شہروں اور دیہات میں 22 گھنٹے پر محیط ہو گیا ہے۔ اسی سبب انڈسٹری سسک رہی ہے۔ نصف کروڑ کے لگ بھگ لوگ بے روزگار ہوئے‘ برآمدات کا بیڑہ غرق ہوا‘ تعلیمی شعبہ متاثر اور گھریلو صارفین عذاب میں مبتلا ہوئے۔ گرانی کا ایک سبب انرجی کی قلت بھی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار کیا پاکستان آئینگے‘ خود پاکستانی سرمایہ کار بھی اپنا کاروبار سمیٹ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی سربراہی میں پنجاب میں پرامن مظاہرے ہو رہے ہیں البتہ کثر اوقات لوگ غصے سے بے قابو بھی ہو جاتے ہیں۔ اب دیگر صوبوں میں بھی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ہیں‘ بلوچستان میں پی پی کی حکومت اور خیبر پی کے میں پی پی اتحادی اقتدار میں ہیں ان صوبوں میں بھی مظاہرین شہر شہر بجلی کی قلت کا سیاپا کر رہے ہیں۔ کے پی کے میں اے این پی کے پرچم جلائے جانے لگے ہیں‘ چترال تک میں احتجاج ہو رہا ہے۔ حکومت کے اتحادیوں نے بھی لوڈشیڈنگ کے عذاب پر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں۔ سینٹ میں اتحادی حکومت پر برس پڑے متحدہ اور اے این پی نے احتجاج کیا۔ اے این پی نے عید کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی پارٹی جو بے شمار وزارتیں انجوائے کر رہی ہے‘ اسکے 16 وزراءنے اپنے استعفے چودھری شجاعت کے حوالے کر دئیے۔ بظاہر وجہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ وفا نہ ہونا بتائی گئی ہے‘ ہو سکتا ہے حسب سابق اپنی ریٹنگ میں اضافے کےلئے یہ اقدام کیا گیا ہو۔
پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 20 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ ضرورت 18 ہزار تھی جو اکثر صنعتوں‘ کارخانوں اور چھوٹے موٹے کاروبار کی مستقل بربادی سے کم ہو کر 16ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ رہ گئی ہے‘ اس میں بھی 6 سات ہزار میگاواٹ کمی قوم کےلئے عذاب نہیں تو کیا ہے اور پھر غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ سے یہ عذاب اپنی بدترین شکل میں نازل ہوتا ہے تو صارفین بلبلا اٹھتے ہیں۔ شہباز شریف تمام صوبوں کو یکساں بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو کائرہ جن کا یہ شعبہ اور محکمہ ہی نہیںہے جواب دیتے ہیں پنجاب کو اسکے متعین کردہ حصے کی بجلی مل رہی ہے گویا مرکز کی طرف سے اصلاحی اقدامات سے صاف جواب ہے۔ صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا نہ ہونے کا ایک ہی سبب کرپشن لاپروائی اور وژن کی کمی ہے۔ انرجی بحران پر قابو پانے کےلئے یہاں حکومت کےلئے قومی مفادات میں پالیسیوں کی تشکیل اور فوری اقدامات کی ضرورت وہیں ہر سطح پر کرپشن کا خاتمہ بھی لازم ہے۔ آج حکومتی کارخانے میں اسی کا فقدان ہے۔ بجلی و پانی کے تین وزیر تبدیل کر دئیے گئے‘ رینٹل منصوبوں میں راجہ پرویز اشرف کا نام آتا تھا‘ ان کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ انکے ہاتھ سے مذکورہ وزارت کا قلمدان لے کر نوید قمر کو تھمایا گیا تو بجلی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا اس انعام میں نوید قمر کو وزیر دفاع بنا دیا گیا۔ آج کے پانی و بجلی کے وزیر احمد مختار نوید سنا رہے ہیں کہ الیکشن تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا امکان نہیں۔ حکومت نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کےلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات نہ کئے تو صارفین کے صبر کا پیمانہ مزید سرعت اور شدت سے چھلک سکتا ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حکمران اپنی ضد چھوڑ کر ترجیحات تبدیل کریں‘ کرپشن کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرتے ہوئے آغاز اپنے گھر سے کریں۔ حکومتی اخراجات میں کمی لائیں‘ پارلیمنٹیرین کو خوش کرنے کےلئے اربوں کی نوازشات کا سلسلہ روک دیں۔ جہازی سائز کابینہ کی ضرورت ہے نہ موجودہ ملکی معیشت اسکی متحمل ہو سکتی ہے۔ ٹیکس وصولی میں شفافیت لائی جائے ہر سطح پر قومی بچت کو اہمیت دی جائے اور یہ رقوم ان وجوہات کے خاتمے کےلئے استعمال کی جائیں جو جان لیوا لوڈشیڈنگ کا باعث ہے۔ اگر حکمرانوں نے اصلاح احوال کےلئے فوری ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر اقدامات نہ کئے تو بپھرے ہوئے عوام الیکشن میں سبق سکھانے کا شاید انتظار نہ کر سکیں۔ وہ اس سے قبل ہی ان کو مصائب میں مبتلا کرنے والوں کا گھیرا¶ کر لیں جس سے ذمہ داروں کو رسوا ہو کر گھر کی راہ لینا پڑے۔ ایسے میں طالع آزما¶ں کو جمہوریت کو آمریت کے شکنجے میں جکڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار تخت سے اتار کر جیلوں میں ڈالے اور بے وطن بھی کئے جا سکتے ہیں۔


عدلیہ کی طرح حکومت بھی
 مثبت رویہ اپنائے
توہین عدالت قانون کیخلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کوئی محاذ آرائی نہیں۔ ہم سب ایک ہیں۔ توہین عدالت کیس کا انجام جو بھی ہو‘ جمہوریت مضبوط ہو گی۔ کسی کو خصوصی سلوک کا مستحق ٹھہرانے سے نظام نہیں چلے گا۔
جس طرح قانون سازی پارلیمنٹ کا حق اور اختیار ہے‘ بعینہ اگر کوئی شہری اس قانون میں کسی خامی کی نشاندہی کرتا ہے تو سپریم کورٹ کو اسکی تشریح کا اختیار بھی ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی اور عدلیہ کو اسکی تشریح کا اختیار آئین نے تفویض کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے توہین عدالت قانون اتفاق رائے سے منظور نہیں کیا‘ اپوزیشن کے اس پر تحفظات تھے۔ حکومت نے یہ تحفظات دور کرنے کی کوشش کی‘ نہ اپوزیشن نے ان پر کوئی بحث کی اور پھر یہ قانون چند گھنٹوں کی کارروائی میں منظور کرلیا گیا۔ اس قانون سازی میں پارلیمنٹیرین کا اخلاص اور اتحاد و اتفاق ہوتا تو اسے چیلنج کرنے کی نوبت نہ آتی۔ اب دو اڑھائی درجن فریق اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں‘ پارلیمنٹ نے قانون بنا کر اپنا اختیار استعمال کرلیا‘ اب سپریم کورٹ کے سامنے یہ کیس لایا گیا ہے تو حکومتی حلقوں میں ایک اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس سے عام آدمی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ واقعی اس قانون میں صاحب اقتدار طبقہ کو فائدہ پہنچانے یا قانون شکنی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فاضل ججوں کے ریمارکس مثبت اور حوصلہ افزا ہیں‘ پارلیمنٹ نے قانون بنا دیا‘ اب اس پر جو بھی فیصلہ آئے‘ وہ پارلیمنٹیرین حکومتی حلقوں اور کیس کے دیگر فریقین کو خوش دلی سے تسلیم کرنا چاہیے۔ جس قسم کے مثبت اور حوصلہ افزا رویے کا اظہار سپریم کورٹ نے کیا ہے‘ حکومتی حلقوں کی طرف سے بھی ایسے ہی رویے کی توقع ہے۔
بھارت میں مسلم کش فسادات
 کے مجرموں کو معمولی سزائیں
بھارتی عدالت نے گجرات فسادات کے 21 ملزموں کو عمر قید کی سزا سنا دی جبکہ ایک پولیس انسپکٹر ایم کے پٹیل کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات ہائیکورٹ نے بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی سمیت 61 افراد کو بری کر دیا۔ مجرموں نے 2002ءکے گجرات فسادات کے دوران گاﺅں وسن نگر میں دو بچوں سمیت ایک مسلمان خاندان کے گیارہ افراد کو گھر میں بند کرکے زندہ جلا دیا تھا ۔
گیارہ انسانوں کے قاتلوں کی نشاندہی ہو گئی‘ ان کو صرف عمر قید کی سزا دی گئی ہے جو قانون کے مطابق وہ بھگت بھی چکے ہونگے۔ گویا ایسے سانحات برپا کرنے کیلئے وہ پھر آزاد ہیں اور کسی بھی وقت ایسا کر سکتے ہیں۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جاتی تو دوسروں کیلئے عبرت کا سامان ہوتا۔ بہیمانہ قتل پر محض عمر قید کی سزا قاتل کیلئے سزا نہیں ایک انعام ہے۔ ایسی سزاﺅں کے باعث بھارت میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ کبھی تھما نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں آسام میں مسلمانوں پر قیامت برپا کی گئی تھی‘ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ کیا معصوم بچوں اور بے گناہ لوگوں کو گھر میں بند کرکے اس لئے آگ لگا دی گئی کہ ان کا جرم صرف ایک نام نہاد سیکولر ملک میںمسلمان اقلیت سے تعلق رکھنا ہے؟ حکومت پاکستان بھی اس پر شدید احتجاج کرے‘ بھارت میں مسلمانوں کےخلاف مظالم پر اگر معمولی سزاﺅں کا سلسلہ جاری رہا تو وہاں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ۔
پانی سے گاڑی چلانے کا مظاہرہ
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی خیرپور سے انجینئرنگ کے طالب علم آغاوقار نے ایک ایسی واٹر کٹ ا کا مظاہرہ ایک نجی ٹی وی پر کیا جس پر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موٹر سائیکل اور جنریٹر بھی صرف سادہ پانی کے ذریعے چلائے جا سکتے ہیں۔
مشہور محاورہ ہے ”ناقابل یقین حد تک اچھی خبر سنائی جائے تو اسے ناقابل یقین ہی سمجھیں“ سادہ پانی پر چلنے کا دعویٰ کرنیوالی یہ ایجاس اس ہی کا مظہر ہے۔ آج پاکستان میں انرجی کا شدید بحران ہے‘ اسکے باعث معاشرتی زندگی تہہ و بالا ہو کر رہ گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بے محابہ اضافے سے عوام کے گھر کی گاڑی کی طرح اسکی سواری کی گاڑی کا پہیہ بھی جام ہو رہا ہے۔ تیل کی فی لٹر قیمت ایک بار پھر سو روپے تک پہنچنے کو ہے‘ ایسے میں اگر کسی نوجوان نے گاڑیوں اور جنریٹروں کےلئے تیل کا متبادل تلاش کرنے کا اعلان کیا ہے تو یقیناً لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اس نوجوان کا معاشرے کی خوشحالی کی طرف یہ نیک نیتی پر مبنی قدم ہے‘ لیکن کیمیا کے اب تک لکھے گئے اصولوں کےمطابق سادہ پانی کو ”جلانے“ اور اس سے انرجی حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ یہ سائنسدانوں کےمطابق ناممکن سمجھا جاتا ہے اور یورپ اور امریکہ میں ایسی ہی ایجادات ہر چند سال بعد ایک فراڈ انویسٹمنٹ سکیم کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔ حکومتی ماہرین مکمل جانچ پڑتال کے بعد تسلی کریں کہ جو دعویٰ کیا گیا ہے‘ وہ حقائق پر مبنی ہے تو اس پراجیکٹ پر قومی خزانے میں سے کوئی فنڈز خرچ کئے جائیں۔






ہیپاٹائٹس کا عالمی دن
دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ہیپا ٹائٹس کا دن منایا گیا۔ ہیپا ٹائٹس یرقان کے تین مختلف درجے ہیں جنہیں ہیپا ٹائٹس اے، بی اور سی کا نام دیا گیا ہے، ایک محتاط اندازے کےمطابق اس وقت دنیا بھر میں پچاس ملین لوگ اسکا شکار ہیں۔ پاکستان میں ہر دسواں آدمی ہیپا ٹائٹس بی یا سی میں مبتلا بتایا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کےمطابق ہیپا ٹائٹس زیادہ خطرناک بیماری نہیں اور اس میں مبتلا مریض بہت سے کیسوں میں اکثر بغیر علاج معالجے کے صحت یاب ہو جاتے ہیں تاہم اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بیماری کی علامات کو نظر انداز کرکے علاج ہی نہ کرایا جائے کہ مرض بڑھ کر ہیپاٹائٹس بی اور سی کی شکل میں نسبتاً مہلک ثابت ہو سکتا ہے اور بات جگر کے کینسر تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال تین سے پانچ ہزار تک لوگ ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے چند سال قبل جب 28جولائی کو عالمی یوم ہیپا ٹائٹس قرار دینے کا اعلان کیا تو اس کا بنیادی مقصد عوام کو اس مرض کے حوالے سے ضروری آگاہی دینے کا اہتمام کرنا تھا۔ دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اس روز عوامی اور حکومتی سطح پر سیمینار منعقد ہوتے، واک ہوتی اور میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود وطن عزیز میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان میں ہیپا ٹائٹس کے نہ صرف کیسز موجود ہیں بلکہ کئی علاقوں کے لوگ اس کی آخری سٹیج میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں ہیپا ٹائٹس میں اضافے کی بنیادی وجوہات کم علمی، غربت، اسکے پھیلنے کے اسباب کا ادراک نہ ہونا، ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا اور ویکسیئن کی عدم دستیابی اور انتقال خون کے دوران ضروری احتیاط نہ کرنا ہے۔عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کیلئے سیمینارز اور واک کے ساتھ ساتھ ان امور کی طرف توجہ دےکر اصلاحِ احوال کیلئے مشاورت اور علاج و معالجے کا ایک منظم اور موثر نظام ترتیب دینا ہو گا جس کیلئے بلڈ سکریننگ کٹس کی فراہمی پہلا قدم ہو گا تاکہ اس مرض کا ابتدائی حالت میں سراغ لگا کر اسکا تیر بہدف علاج ممکن بنایا جا سکے۔