قونصلیت آفس میں پاکستانی کی وفات پر رکن قومی اسمبلی کی نیوز کانفرنس

مکتوب دوبئی ۔۔۔ طاہر منیر طاہر ........
30جون 2010 ءکی بات ہے کہ قونصلےٹ آف پاکستان دوبئی مےں اپنے کسی کام کی غرض سے گئے ہوئے اےک شخص اکمل نے فون پر بتاےا کہ آج قونصلےٹ کے اندر اےک شخص کا انتقال ہوگےا ہے مزےد آپ خود پتہ کرلےں۔ ےہ بات کہہ کر اس شخص نے فون منقطع کردےا۔ بات کی تفصےل جاننے کے لئے مےں نے پرےس قونصلر زاہدہ پروےن کو فون کےا تو اس وقت انہوں نے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کےا اور کہا کہ تھوڑا وقت دےں تاکہ مےں واقعہ کا پتہ کرسکوں۔ تقرےباً پندرہ منٹ کے بعد پرےس قونصلر نے بذرےعہ ٹےلی فون مجھے بتاےا کہ واقعی آج ےہاں کسی کو ہارٹ اٹےک ہوا ہے اس کے بعد بات آئی گئی ہوگئی کےونکہ اس سلسلہ مےں نہ تو کوئی بات باہر نکلی اور نہ ہی مےڈےا مےں کچھ ہوا۔ ےکم اگست 2010ءکو پاکستان جرنلسٹس فورم کی طرف سے اےک اطلاع موصول ہوئی کہ آج ممبر قومی اسمبلی کشمالہ طارق الےکٹرانک اور پرنٹ مےڈےا سے نیوز کانفرنس کرےں گی ےہ خطاب شارجہ کے ہوٹل مےں ہوا جس مےں کشمالہ طارق نے بتاےا کہ 30جون 2010کو دوبئی قونصلےٹ مےں جاں بحق ہونے والے غلام فرےد ملک ان کے عزےز تھے۔ انہوں نے کہا کہ قونصلےٹ آفس میں سٹاف کے ساتھ ملاقات کے دوران نامناسب روےہ کی وجہ سے انہےں گہرا صدمہ پہنچا اور وہ جانبر نہ ہوسکے اور وہےں اےک آفےسر کے کمرہ مےں اللہ کو پےارے ہوگئے۔ انہےں نہ تو طبی امداد پہنچائی گئی اور نہ ہی جلدی ہسپتال پہنچاےا گےا جبکہ اےمبولےنس بھی 45 منٹ کے بعد بلائی گئی اگر غلام فرےد ملک کو بروفت طبی امداد پہنچا دی جاتی تو ان کی زندگی بچ سکتی تھی لےکن قونصلےٹ کے بے حس سٹاف کی غفلت کی وجہ سے اےک پاکستانی کی جان چلی گئی۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ وہ حال ہی مےں بےرونی ممالک کے دورہ سے واپس آئی ہےں اُن ممالک مےں بھی مسائل ہےں لےکن اس طرح کے مسائل نہےں ہےں جس طرح دوبئی کے پاکستانےوں کو درپےش ہےں کہ قونصلےٹ کے پاس وافر فنڈز موجود ہےں جو ےہاں آنے والوں کی فلاح وبہبود پرخرچ کئے جاسکتے ہےں۔ اگر قونصلےٹ کے اکاو¿نٹ سے ایک دن مےں چالےس ہزار درہم کی خطےر رقم برائے ادائےگی لےموزےن دی جاسکتی ہے تو قونصلےٹ مےں جمع شدہ رقم انہی لوگوں کی امانت ہے جسے ان کی ہی فلاح وبہبود پر خرچ کےا جانا چاہےے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ انہےں قونصلےٹ کے اندر ہونے والی دھاندلےوں اور بے قاعدگےوں کی بھی رپورٹ ملی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے ۔ غلام فرےد ملک کی قونصلےٹ مےں ہلاکت اےک لمحہ فکرےہ ہے کشمالہ طارق نے کہا کہ وہ اس سلسلہ مےں پارلےمنٹ مےں جا کر بات کرےں گی۔ اس پرےس کانفرنس مےں کشمالہ طارق کے ساتھ مرحوم غلام فرےد ملک کے تنےوں بےٹے عاصم فرےد ملک عاطف فرےد ملک اور آصف فرےد ملک بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مرحوم کے بڑے صاحبزادے عاصم فرےد ملک نے صحافےوں کوبتاےا کہ قونصلےٹ مےں لوگوں کے ساتھ سلوک صحےح نہےں کےا جاتا۔ کام کی غرض سے دوردراز کے غلاقوں سے آئے لوگ دھوپ مےں لمبی قطاروں مےںکھڑے رہتے ہےں۔ عورتےں معصوم بچوں کو گود مےں اٹھائے پرےشان پھرتی ہےں جبکہ عوام کے خادم ےہاں عوام کے حاکم بنے بےٹھے ہےں۔ عاصم فرےد ملک نے کہا کہ وہ قونصلےٹ کا قبلہ درست کرنے کے لئے وہ ہر فورم پر اس بات کو اٹھائےں گے اور اپنے والد کی موت کی تحقےقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ مےں وہ پاکستان مےں اعلیٰ حکام کے پاس جائےں گے اور اعلی سطحی عدالتوں سے بھی رجوع کرےں گے۔ اس سلسلہ مےں عاصم فرےد ملک نے مسلم لےگ ن گلف رےجن کے صدر چودھری نورالحسن تنوےر جو ےونائٹےڈ فورم کے صدربھی ہےں ان سے بھی ملاقات کی اور معاملہ کو اوورسےز ہےلپ ڈےسک کے ذرےعے اٹھانے کی استدعا کی۔ ےاد رہے ککہ سابقہ وزےراعظم مےاں محمد نواز شرےف نے اپنے حالےہ دورہ امارات کے دوران دوبئی مےں ےہ اعلان کےا تھا کہ اوورسےز پاکستانےوں کے مسائل کے حل کے لئے اوورسےز پاکستانےز ہےلپ ڈےسک قائم کےا جارہا ےہ جس کی نگرانی وہ خود کرےں گے۔ عاصم فرےد ملک کی بات سن کر چودھری نورالحسن تنوےر نے کہا کہ وہ ان کی درخواست اوورسےز ہےلپ ڈےسک تک پہنچائےں گے اور مسئلہ کے حل کے لئے قائد محترم سے خود بھی بات کرےں گے۔ ےاد رہے کہ دنےا سے رخصت ہوجانے والے غلام فرےد ملک عرصہ چالےس سال سے امارات مےں مقےم تھے آپ منسٹری آف ہےلتھ مےںبطور ڈےنٹسٹ کام کررہے تھے۔ بارہ سال تک پاکستان اےسوسی اےشن دوبئی مےں سپورٹس سےکرٹری بھی رہے کرکٹ کے اےمپائر تھے اورسوشل ورک کے حوالے سے دوبئی کی جانی پہچانی شخصےت تھے۔ واقعہ مذکور کے بارے جب اےک افطاری کے بعد قونصلےٹ آف دوبئی کے قونصل جنرل امجدعلی شےر سے اےک ہوٹل مےں بات کی گئی تو ان کا موقف ےہ تھا کہ ملک غلام فرےد اےک عرصہ سے قونصلےٹ آرہے تھے ان کو سارا سٹاف جانتا تھا اور ان کا احترام کرتا تھا۔ ملک صاحب جس کام کےلئے اس روزقونصلےٹ آئے ان کا وہ کام بھی کردےا گےا تھا جب ان کو تکلےف ہوئی اس وقت وہ ائرکنڈےشنڈ روم مےں موجود تھے اور انہےں طبی امداد کے علاوہ اےمبولےنس سروس بھی فراہم کی گئی تھی تاہم دےگر سائلےن کی فلاح وبہبود اور آسانی کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہےں۔ ##