پی پی پی کا 44 واں یوم تاسیس

مکتوب دوبئی ۔۔۔ طاہر منیر طاہر
گذشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کا 44واں یوم تاسیس شارجہ کے ایک ہوٹل میں منایا گیا جس کا اہتمام پاکستان پیپلز پارٹی متحدہ عرب امارات کے صدر اور چیئرمین ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر کونسل میاں منیر ہانس نے کیا تھا۔ اس تقریب میں سردار عبدالقیوم جتوئی سابق وفاقی وزیر انڈسٹری اینڈ پروڈکشن اور ایم این اے حلقہ مظفرگڑھ بطور مہمان خصوصی موجود تھے جبکہ سابقہ ناظم روہیلانوالی ضلع مظفرگڑھ و صدر پی پی پی شارجہ اختر خان گوپانگ بطور مہمان اعزازی مدعو تھے۔ تقریب ہذا میں ڈاکٹر ضیاء اللہ جتوئی، چودھری محمد شکیل، چودھری محمد ناصر، بشیر بہادر، اقبال پرنس، مظفر باجوہ، میاں عابد علی، شیخ محمد پرویز، مخدوم رئیس قریشی، رانا محمد صفدر، ملک خادم شاہین، ملک شہزاد، طارق حسین بٹ، راجہ محمد سرفراز، سابق صدر پاکستان سوشل سنٹر شارجہ اور پاکستانی کمیونٹی یو اے ای کے پاکستانی اور کارکنان پیپلز پارٹی موجود تھے جبکہ قونصلیٹ آف پاکستان دوبئی کے قونصل جنرل طارق اقبال سومرو تقریب ہذا میں بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔
پی پی پی کے 44ویں یوم تاسیس کے موقع پر تالیوں کی گونج میں کیک کاٹا گیا اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی گئیں۔ کیک کاٹنے کی تقریب میں قونصل جنرل طارق اقبال سومرو، ایم این اے سردار عبدالقیوم جتوئی، میاں محمد منیر ہانس، اختر خان گوپانگ، راجہ محمد سرفراز، ڈاکٹر ضیاء اللہ جتوئی، طارق حسین بٹ اور پی پی پی متحدہ عرب امارات کے بہت سے کارکن موجود تھے۔
اس موقع پر قونصل جنرل طارق اقبال سومرو، سابق وفاقی وزیر سردار عبدالقیوم جتوئی، بشیر بہادر، طارق حسین بٹ، اختر خان گوپانگ اور میاں منیر ہانس نے شرکائے تقریب سے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنی تقاریر کے دوران کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی تھی۔ فروغ جمہوریت اور ایک عام آدمی کے حقوق کی بحالی کی خاطر بھٹو خاندان نے جس قدر قربانیاں دی ہیں۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مقررین نے کہا کہ آج سے 44 سال قبل قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ جو آج تناور درخت بن چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی چاروں صوبوں میں موجود ہے اور یکساں مقبول ہے۔ ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے لوگوں کا بھرپور تعاون اسے حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سختیوں کے باوجود پیپلز پارٹی نہ تو ختم ہوئی اور نہ ہی اس کی مقبولیت کا گراف کم ہوا بلکہ ہر سختی اور زیادتی کے بعد پیپلز پارٹی مزید طاقت کے ساتھ اُبھری اور اپنا آپ منوایا۔
پی پی پی کے مقررین نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی کو حکومت ملی ہے۔ منفی طاقتیں اسے گرانے کی کوششوں میں لگ گئیں، ہر بار پی پی پی کی حکومت کے ساتھ اوچھے ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ ورکروں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ جیلوں میں اور سرعام کوڑے مارے گئے۔ زیر کرنے کے لئے ناجائز مقدمات قائم کئے گئے لیکن کوئی حربہ بھی ورکروں اور جیالوں کو ان کے ارادوں سے باز نہ رکھ سکا۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی آصف علی زرداری کی قیادت میں مضبوط ہے۔ پیپلز پارٹی کے تمام کارکن نظریاتی ہیں وہ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو، میر مرتضٰی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادتیں نہیں بھولے جنہوں نے اپنا خون دے کر پیپلز پارٹی کی جڑیں مضبوط کیں اور جمہوریت کے لئے راہ ہموار کی۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی غریبوں کی حمایت کا دم بھرتی ہے اور حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر عام آدمی کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہی ہے لیکن سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور ناقص حکمت عملیوں کا خمیازہ موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود پیپلز پارٹی صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی قیادت میں حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور اس بات کا عزم رکھتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا۔ جس کے تحت غریبوں اور متوسط درجہ کے لوگوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے احسن اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے اور ملک میں تعلیم و صحت کے مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تقریب کے آخر میں قوم و ملک کی خوشحالی اور پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی خصوصی دعا بھی کی گئی۔ اور شرکائے تقریب کی تواضع پُرتکلف ڈنر سے کی گئی۔