سینٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل اٹھاتا رہوں گا : سینٹر عبد النبی بنگش

بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے جس کے لئے عملاً کوششیں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو پیسے بنانے اور بھجوانے والی مشین سمجھا جاتا ہے جبکہ عرصہ دراز تک بیرون ملک خدمات سرانجام دینے والے تارک وطن کو ملک میں کوئی سہولت مہیا نہیں کی جاتی جبکہ عرصہ دراز تک ملک سے دور رہ کر قوم و ملک کے لئے کام کرنے والے پاکستانی کو اپنے ہی وطن میں بیگانوں جیسے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے عمر رسیدہ اور لمبے عرصے تک بیرون ملک خدمات سرانجام دینے والے پاکستانیوں کو پنشن ملنی چاہیے جبکہ سمندر پار بسلسلہ روزگار مقیم کام کرنے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ اور ان کے بچوں کو پاکستان میں خصوصی سہولیات ملنی چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار دوبئی کے ایک ہوٹل میں عبدالنبی بنگش سینیٹر اور سفیر عمومی جاوید ملک نے یونائیٹڈ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یونائیٹڈ فورم دوبئی کی اس تقریب میں چودھری ظفر اقبال‘ چوہدری محمد الطاف‘ سید سجاد حسین شاہ‘ سردار جاوید یعقوب‘ ملک دوست محمد اعوان‘ چودھری عبدالغفار‘ چودھری خالد بشیر‘ میاں منیر ہانس‘ عبدالستار پردیسی‘ بزنس کونسل کے احسان الٰہی‘ اعجاز احمد‘ شیخ محمد عارف‘ آفتاب احمد خان‘ عبدالوحید پال‘ چودھری خالد پرویز‘ غلام مصطفی مغل‘ ہیڈ آف چانسری ریحان صدیقی اور پاکستان کمیونٹی دوبئی کے بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر چودھری چودھری محمد الطاف اور چودھری ظفر اقبال نے امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل سے سفیر عمومی جاوید ملک اور سینیٹر عبدالنبی بنگش کو آگاہ کیا۔ تقریب ہذا میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار جاوید یعقوب نے انجام دیے۔ چودھری ظفر اقبال اور چودھری محمد الطاف نے کہا کہ وہ پاکستان جو عرصہ دراز سے امارات یا دیگر ممالک میں کام کر رہے ہیں ان کی فلاح و بہبود کے لئے پاکستان میں سہولیات فراہم کی جائیں۔ بیرون ملک کام کرنے والا پاکستان اگر پاکستان میں مستقلاً رہنا چاہے تو حکومت اس کی ہر ممکن مدد کرے جبکہ بیرون ملک مقیم بسلسلہ روزگار پاکستان کے اہل خانہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔
سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ چونکہ میں خود عرصہ دراز سے بیرون ملک ہی موجود ہوں لہٰذا مجھے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کا زیادہ پتہ ہے اور ان کے مسائل کا احساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے قیام اور صوبائی و قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ سینٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو نمائندگی دلانے کا کام شروع کر دیا ہے امید ہے کہ آپ کی دعاؤں سے میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی علیحدہ وزارت قائم کرانے اور اسمبلی و سینٹ میں نمائندگی دلانے کے عمل میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو صرف پیسے بنانے اور بھجوانے والی مشین سمجھ لیا گیا ہے اور ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی لیکن اب ایسا نہیں ہو گا میں سمندر پار پاکستانیوں کے نمائندہ کی حیثیت سے سینٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اٹھاتا رہوں گا۔ سفیر عمومی جاوید ملک نے کہا کہ میں سمندر پر پاکستانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں مخلص ہے اس سلسلہ میں عملاً کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر کی ہدایت پر انہوں نے او پی ایف کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ سفیر عمومی جاوید ملک نے بتایا کہ وہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بھی ممبر ہیں لہٰذا او پی ایف میں ان کی شراکت سے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل ہونے کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔ جاوید ملک نے کہا کہ وہ بھی عرصہ دراز سے بیرون ملک ہی مقیم ہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں جبکہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو اپنا ہی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید ملک نے کہا کہ گلف ریجن میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ جاوید ملک نے کہا کہ جیلوں میں پاکستانیوں کی رہائی اور ان کی بہتری کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جاوید ملک نے کہا کہ او پی ایف کے فنڈز سے اوورسیز پاکستانیوں کے لے انشورنش پالیسی کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ کاروبار کے لئے فنڈز جبکہ معمر اوورسیز پاکستانیوں جنہوں نے لمبا عرصہ بیرون ملک کام کیا ہو ان کے لئے پینشن سکیم جاری کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ جاوید ملک نے کہا کہ وہ سمندر پار مقیم دنیا بھر کے پاکستانیوں کے لئے کام کر رہے ہیں اس سلسلہ میں جلد ہی ایک رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔