عدالتی احکامات کی پروا نہ کرنے پر 51 پولیس افسروں کے وارنٹ گرفتاری

عدالتی احکامات کی پروا نہ کرنے پر 51 پولیس افسروں کے وارنٹ گرفتاری

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) سیشن عدالتوں نے قتل اور حدود کے زیر سماعت مقدمات میں عدالتی احکامات کی پروا نہ کرنے پر پنجاب پولیس کے 51 پولیس افسروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے11 تفتیشی افسروں کی تا حکم ثانی تنخواہ قرق کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ مذکورہ افسر فاضل عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات مین بطور گواہ پیش نہیں ہو رہے تھے۔ ایڈیشنل سیشن جج طارق محمود نے تھانہ نشتر کالونی کے اے ایس آئی ارشد علی ، سب انسپکٹر عمر خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ گرین ٹاﺅن اور تھانہ بادامی باغ کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تھانہ بادامی باغ کے اے ایس آئی ذوالفقار، سب انسپکٹر لیاقت ، کانسٹیبل ، محمد نوید، ارشد اور جاوید وغیرہ چھ پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سماعت آئندہ تک ملتوی کردی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایس آئی محمد فاروق ، کانسٹیبل، محمد خان ، شبیر حسین ، محمد احسان ، محمد افضال ، اور شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تھانہ ہنجروال تفتیشی سنٹر کے انسپکٹر طارق محمد انسپکٹر ملک منصف ، کانسٹیبل لیاقت ، محمد جمیل ، منظور احمد، جاوید اقبال کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تھانہ باغبانپورہ کے انچارج انویسٹی گیشن سمیت 18پولیس ملازمین کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تھانہ نواں کوٹ تفتیشی سنٹر کے انچارج سمیت چار پولیس افسروں کو گرفتار کرکے لانے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تھانہ ہنجراول کے ایس ایچ او تھانہ، بادامی باغ کے ایس ایچ او تھانہ شمالی چھاﺅنی کے ایس ایچ او۔ تھانہ جنوبی چھاﺅنی کے ایس ایچ او سمیت 11 پولیس افسروں کی تا حکم ثانی تنخواہ قرق کرنے کا حکم دیا ہے۔
وارنٹ گرفتاری