پولیس اہلکار بند کی گئی گاڑیوں‘ موٹرسائیکلوں کے پرزے چرانے لگے

لاہور (نامہ نگار) ٹریفک پولیس کے انسپکٹروں نے بند کی گئی اپلائیڈ فار گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کے پرزے اور ٹیپ ریکارڈر چوری کرنے شروع کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق اپلائیڈ فار گاڑیوں کے کارروائی کرنا پولیس یا پھر محکمہ ایکسائز کا کام ہے مگر ٹریفک پولیس شہر میں ٹریفک کے بہائو کو یقینی بنانے کے بجائے اپلائیڈ فار گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں بند کرنے کے مشن پر ڈٹی ہوئی ہے جس کے بعد پرانے ٹریفک انسپکٹروں کی جانب سے گاڑیوں سے پرزے اور ٹائر‘ سٹپنی اور ٹیپ ریکارڈر اتارنے  کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ ٹریفک وارڈن نے شہری محمد عامر کا اپلائیڈ فار موٹرسائیکل رکشہ بند کیا جسے ٹریفک سیکٹر مال ٹو میں بند  کر دیا گیا جس کے بعد محمد عامر 2 سو چالان جرمانہ بینک میں جمع کراکر رکشہ لینے گیا تو انچارج ٹریفک سیکٹر مال ٹو انسپکٹر میاں مشتاق نے رکشہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا چالان جمع کرانے کا کوئی فائدہ نہیں اس کی رجسٹریشن کرا کر لائو۔ محمد عامر دو دن بعد محکمہ ایکسائز سے رجسٹریشن  کرا کر گیا تو اس نے دیکھا رکشے کی سٹپنی (اضافی ٹائر)  اور ٹیپ غائب ہے۔ محمد عامر نے انسپکٹر میاں مشتاق سے ٹائر اور ٹیپ کا پوچھا تو انسپکٹر نے کہا ہم اس کے ذمہ دار نہیں۔