وی آئی پی کلچر کیخلاف درخواستیں‘ حکومتی وکیلوں کو ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ملک میں وی آئی پی کلچر کیخلاف درخواستوں میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے وکلا کو سات نومبر کو ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیدیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عائشہ اے ملک نے جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید اور لائرز فاﺅنڈیشن فار جسٹس کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے مگر اس کے باوجود وزیراعظم، وزراءاعلیٰ، گورنرز سمیت وزرا اور مشیر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، برطانیہ میں وزیراعظم کے علاوہ کوئی وزیر عوام کے پیسے سے مراعات نہیں لیتا جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں 96 وزیروں پر 90 ارب روپے خرچ کر دیئے گئے۔ پنجاب میں پارلیمانی سیکرٹریوں کیلئے 6 سو ملین کی گاڑیاں خریدی گئیں۔ انہوں نے استدعا کہ وزیراعظم کے علاوہ عوامی عہدے رکھنے والے تمام سیاستدانوں پر مراعات کے استعمال پر پابندی لگائی جائے، ابتدائی سماعت کے بعد فل بنچ نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے وکلاءکوسات نومبر کو ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیدیا۔
پیش ہونے کا حکم