قتل کے مزید 8 مجرموں کو پھانسی، صلح ہونے پر 3 کی روک دی گئی ‘حیدر آباد میں طیارہ ہائی جیک کے 2 ملزموں کو آج پھانسی ہو گی

قتل کے مزید 8 مجرموں کو پھانسی، صلح ہونے پر 3 کی روک دی گئی  ‘حیدر آباد میں طیارہ ہائی جیک کے 2 ملزموں کو آج پھانسی ہو گی

لاہور + حیدر آباد + کراچی (سٹاف رپورٹر/آن لائن/ نوائے وقت رپورٹ) پنجاب اور بلوچستان کی جیلوں میں قتل کے مزید 8 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی جبکہ 3 مجرموں کی پھانسی صلح نامے جمع ہونے کے بعد روک دی گئی۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے 2 مجرموں شہزاد اور عبدالخالق کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ مجرم شہزاد نے ایک شہری کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا جب کہ عبد الخالق نے فیکڑی ایریا میں خاتون کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔ صدر نے دونوں مجرموں کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں بھی سزائے موت کے 2 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔ دولہا والاں کے نصیر نے 1999 میں اپنے دوست کو قتل کیا تھا جب کہ مجرم اظہر نے 2002 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا، عدالت نے دونوں مجرموں کو 2003 میں سزائے موت سنائی تھی۔ مچھ جیل میں سزائے موت کے قیدی خان محمد کو بھی پھانسی دی گئی، مجرم نے2004 میں بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا تھا۔ دوسری جانب سینٹرل جیل ملتان میں سزائے موت کے منتظر 2 بھائیوں کی پھانسی فریقین کے درمیان صلح ہونے کے بعد روک دی گئی۔ ادھر سینٹرل جیل حیدر آباد میں پی آئی اے کا طیارہ مسافروں اور عملے سمیت ہائی جیک کرنے کے الزام میں سزائے موت کے منتظر 2 قیدیوں شہسوار بلوچ اور صابر بلوچ کو آج جمعرات کو پھانسی دی جائیگی۔ جیل انتظامیہ نے پھانسی کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ بلوچستان کے تربت ائرپورٹ سے پی آئی اے کا طیارہ مسافروں اور عملے سمیت بھارت لے جانے کی کوشش کرنے والے 3 میں سے دو ہائی جیکروں شہسوار بلوچ اور صابر بلوچ کی 16 مئی کو صدر مملکت نے رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔ ادھر سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ ہونے پر شادہد کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا۔ سزائے موت پر عملدرآمد دو روز کے لیے روکاگیا ہے۔ فیصلہ مقتولین کے اہل خانہ سے صلح نامہ ہونے کی درخواست کی بنیاد پر کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 28 مئی کے لئے بلیک وارنٹ جاری کئے تھے۔ مجرم شاہد نے 1999 میں پولیس کانسٹیبل کی بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا تھا۔ ساہیوال سے نامہ نگار کے مطابق ساہیوال جیل میں آج ایک  مجرم کو تختہ  دار پر لٹکایا جائے گا۔ کوٹ الٰہ دین کے رہائشی اشرف نے بچوں کی لڑائی کے تنازعہ پر طیش میں آ کر اسلم اور احمد علی  کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔وہاڑی سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل میں سزائے موت کے دو قیدیوں کو علی الصبح پھانسی دے دی گی۔ مجرم ثناء اللہ سکنہ 445  ای بی بوریوالا نے دکان مالک کے بیٹے محمد دانش امین کو اغوا کے بعد زیادتی کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا جبکہ دوسرے مجرم عبدالستار سکنہ 176ڈبلیو بی نے 18سال قبل لاہور کے علاقہ اسلام پورہ میں 13سالہ لڑکی رسولاں بی بی کو گھر میں اکیلی پاکر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد کپڑے کے پھندا گلہ میں ڈال کر قتل کر دیا تھا۔ گجرات سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں قتل کے مقدمات کے دو مجرموں کو پھانسیاں دیدی گئیں۔ مجرم فیصل سکنہ والانوالہ اور مجرم نصیر سکنہ حسام تحصیل کھاریاں کو صبح ساڑھے چار بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا۔علاوہ ازیں کوٹ لکھپت جیل میں دو قتل کے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ مجرم شہزاد احمد نے اقبال ٹائون میں 1998ء میں ایک شخص کو قتل کیا تھا جبکہ مجرم عبدالخالق نے 1998ء میں فیکٹری ایریا کے علاقہ میں ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔