خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت تیز، جنوری میں 15 مجرموں کو موت، قید کی سزائیں

خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت تیز، جنوری میں 15 مجرموں کو موت، قید کی سزائیں

لاہور(شہزادہ خالد)پشاور سکول پر حملہ کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے زیر سماعت سنگین مقدمات کا سپیڈی ٹرائل شروع کردیا اور اہم مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے خطرناک درجنوں مجرموں کو سزائے موت، عمر قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائیں جس کی وجہ سے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور سفاک مجرموں میں خوف پایا جانے لگا ہے۔ نئے سال کے پہلے مہینے میں 15 سے زائد مجرموں کو موت و عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ہارون لطیف نے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران وکلاء کے دلائل اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں مجرم اکبر عرف فیاض اور منصب علی کو اپنے مخالف سرور کو گزشتہ سال 31 اگست کو ایس پی قصور کے دفتر میں پنچایت کے دوران فائرنگ کرکے قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر دو دو مرتبہ سزائے موت اور فی کس دو دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج رائے ایوب مارتھ نے بھتہ وصول کرنے کے کیس میں ملوث ملزم طلحہ حسین کو جرم ثابت ہونے پر 12 سال قید اور 75ہزارروپے جرمانے کی سزا سنادی۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تھانہ ڈیفنس بی پولیس نے ڈیفنس کے پراپرٹی ڈیلر شہریار سے بھتہ وصول کرنے کے الزام میں ملزم طلحہ حسین کے خلاف چالان پیش کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ہارون لطیف نے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے پر دو مجرموں کو مختلف دفعات میں مجموعی طور پر 35,35سال قید کی سزا کا سنائی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج نے امریکی ڈاکٹر وارس سٹائن کو اغوا کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ملزم حافظ عمران کو تین مرتبہ سزائے موت پانچ لاکھ روپے جرمانہ عدم ادائیگی پر مزید چھ سال قید جبکہ مجرم کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم سنایا۔ استغاثہ کے مطابق کالعدم تنظیم کے کارکن حافظ عمران نے امریکی ڈاکٹر وارس سٹائن کو اغوا ء کر کے اس کی رہائی کے لئے اپنے ساتھی گرفتار طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردوں کودھماکہ خیز مواد اور جدید ہتھیارسپلائی کرنیوالے 2 مجرموں کو مجموعی طورپر50سال قید کی سزا سنائی۔لاہور میں خصوصی عدالت کے روبرو تھانہ نولکھا پولیس نے طارق اورضیاء کو گرفتارکرکے چالان پیش کیاتھا دونوں کو ریلوے سٹیشن سے گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح خصوصی عدالت نے ماڈل ٹائون میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیس میں مجرم محمدمعاویہ کو سات مرتبہ سزائے موت اور 2 مرتبہ عمر قید جبکہ مجرم عبداللہ کو 9مرتبہ عمر قید اور فی کس 37,37 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔ فاضل جج نے دونوں مجرموں کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میں مزید سات سات قید کی بھی سزا سنائی۔ دونوں مجرموں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے۔حملہ میں 26 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوگئے تھے۔ انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ہینڈ گرنیڈ برآمدہونے کا جرم ثابت ہونے پر دہشت گرد اعظم کو مجموعی طور پر39 سال قید کی سزا سنا ئی۔ جبکہ خصوصی عدالت نمبر چار کے جج رائے ایوب خان مارتھ نے اغواء برائے تاوان کے مقدمہ میں ملوث وحید کو 33 سال، ساجد ظفر اور اقرا بی بی کو 28، 28 سال قید و جرمانے کی سزاء کا حکم سنایا جبکہ دو کو بری کردیاہے استغاثہ کے مطابق ملزموں نے 2011 میںمقامی شہری نصیر احمد کے بیٹے وقاص کو اغواء کرنے کے بعد اس کے ورثاء سے 15 لاکھ روپے تاوان مانگا تھا۔ علاوہ ازیں خصوصی عدالت نمبر 1 نے ریسکیو 15 بلڈنگ اور حساس ادارے کے دفتر پر حملہ میں ملوث تین دہشت گردوں عابد اکرم، سرفراز اور شبیر کو 47،47 بار سزائے موت اور ایک ایک بار عمر قید بامشقت ، انفرادی طور پر 2کروڑ، 53 لاکھ،51 ہزار 500 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ استغاثہ کے مطابق 27مئی 2009 کو مسلح دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ہمراہ لاہور میں ریسکیو 15 کی مرکزی بلڈنگ اور حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کیا جس میں 26افراد جاںبحق اور 337زخمی ہوئے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کے بعد سی سی ٹی وی کیمروںاور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔ملزم عابد اکرم کو لاہور کے علاقے شاہدرہ جبکہ ملزمان سرفراز اور شبیر کو فیصل آباد کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔