’’سینٹ قائمہ کمیٹی میں سزائوں سے متعلق بل کی منظوری خوش آئند ہے‘‘

لاہور (وقائع نگار خصوصی) فوجداری امور کے ماہرین وکلاء کا کہنا ہے کہ مختلف جرائم کی سزائوں سے متعلق ترمیمی بل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی طرف منظور کیا جانا خوش آئند ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل آفتاب باجوہ نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کا ترمیمی بل 2014ء اور انسداد ترمیمی بل 2014ء کی قائمہ کمیٹی سے منظوری سے پہلے بھی تعزیرات پاکستان میں سخت ترین سزائیں موجود ہیں جبکہ سنگین جرائم کی سزائوں کے ایکٹ بھی بنے ہوئے ہیں۔ لیکن موثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سائلین کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عبدالحمید رانا نے کہا کہ تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں تمام جرائم کی سخت ترین سزائیں موجود ہیں۔ اس وقت پروسیجرل ترامیم کی ضرورت ہے۔ سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نجیب فیصل چودھری نے کہا کہ قوانین کی تشکیل کے حوالے سے قانون سازی کی بجائے پہلے سے موجود قوانین کو موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے پراسیکیوشن کے نظام میں مزید بہتری کی تجویز دی۔