لاہور ہائیکورٹ بار کے پہلے انتخابات1893ءمیںہوئے


لاہور (رپورٹ: ایف ایچ شہزاد) ہائی کورٹ بار کے101ویں سالانہ انتخابات 23 فروری کو ہوں گے۔ 120سالہ عظیم تاریخ کی امین اس بار میں 1929ءکو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ تشریف لائے جبکہ علامہ اقبالؒ اس بار کے ممبر رہے۔ بار کی تاریخ کا منفرد سفر بتاتا ہے کہ 1893ءمیں لاہور ہائی کورٹ بار کی پہلی کا بینہ منتخب ہوئی جس میں ڈبلیو ایچ واتھگن صدر،آر بی پی سی چٹر جی نائب صدر، اے ٹرنر سیکرٹری اور سی گقولک ناتھ فنانس سیکرٹری شامل تھے۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں پہلے مسلمان صدر میاں شاہ دین 1905ءمیں منتخب ہوئے جبکہ قیام پاکستان کے بعد 1947ءمیں خلیفہ شجاع الدین بار کے پہلے صدر تھے۔ 1893ءمیں کابینہ منتخب ہونے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 1910ءمیں بطور بار ایسوسی ایشن رجسٹریشن لینے کی سفارش کی جس کو جنرل ہاﺅس نے 9 جون 1910ءکو منظور کرنے کے بعد رجسٹرڈ کروایا۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے کئی صدور کو اعلیٰ عدالتوں میں جج مقرر ہونے کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے بیس ہزار سے زائد ارکان اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ 23فروری کو ہونے والے انتخابات میںصدارت کی سیٹ پر پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جن میںفرینڈز الائنس کے امیدوار عابد ساقی، پروفیشنل گروپ کے سید محمد شاہ، آزاد امیدوار شفقت چوہان، سجاد حسین بھٹی اور معظم اقبال گل شامل ہیں۔
نائب صدارت کےلئے غلام سرور نہنگ، جبار قادر راجپوت اور اے قیوم طاہر چوہدری کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ سیکرٹری کی سیٹ پر چوہدری لطیف سرائ، میاں شہزاد خادم اور بلیغ الزمان مد مقابل ہوں گے۔ اسی طرح فنانس سیکرٹری کےلئے مسز شبنم اسلم ناگی، فیروزہ ملک اور عثمان شبیر گوندل امیدوار ہوں گے۔ امیدواروں نے اگرچہ لاہور کو انتخابی مہم کےلئے مرکز بنا رکھا ہے تاہم دوسرے شہروں میں بھی امیدوار اپنے سپورٹرز کے ساتھ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ صدارت کی سیٹ پر عابد ساقی، شفقت چوہان اور سید محمد شاہ میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
ہائیکورٹ بار