دوسری شادی کرنیوالی خاتون بچوںکی پرورش کا قانونی اختیار نہیں رکھتی: لاہور ہائیکورٹ

دوسری شادی کرنیوالی خاتون بچوںکی پرورش کا قانونی اختیار نہیں رکھتی: لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس جیمز جوزف نے دوسری شادی کرنے والی خاتون کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لئے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے بچے باپ کے حوالے کر دئیے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ دوسری شادی کرنے والی خاتون بچوں کی پرورش کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتی۔ دوران سماعت درخواست گزار خاتون حمیرا بی بی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسکے سابق شوہر نے اسکے دو بچے سات سالہ علی زین اور زینب فاطمہ کو حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت دونوں بچے باپ سے لے کر اسکے حوالے کرنے کا حکم دے۔ خاتون کے سابق شوہر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسکی بیوی نے طلاق کے بعد دوسری شادی کر رکھی ہے اب وہ بچوں کی پرورش کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ جس پر عدالت نے حبس بیجا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں بچوں کو باپ کے حوالے کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بچے باپ سے لپٹ گئے اور خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دئیے۔