کمسن بچی پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ گئی

ظہیر حسین بابر ۔۔۔
11نومبر کی صبح کو اخبار میں ایک افسوسناک خبر پڑھنے کو ملی جس کے مطابق ایک اڑھائی سالہ معصوم بچی ڈور پھرنے سے شہ کٹوا بیٹھی اور اس طرح زندگی کی بازی ہار گئی۔ یہ مقتولہ اپنے والد اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ کٹی پتنگ کی تیز ڈور تینوں کے گلے پر پھری۔ والد کو معمولی زخم آئے، بھائی شدید زخمی ہوا لیکن معصوم نور فاطمہ جو اڑھائی سال کی ننھی کلی تھی، تیز ڈور کا وار برداشت نہ کر سکی اور خبر کے مطابق اس کی گردن کٹ کر دور جا گری۔ اعلیٰ حکام نے اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیا۔ کچھ افسران معطل ہوئے لیکن وہ جان واپس نہ آسکی جو اس چمن میں کلی کی صورت میں جی بھر کر مسکرا بھی نہ سکی، پھول بن کر بہار دکھلانا تو دور کی بات ہے۔ 
ڈور کے ہاتھوں شہ رگ کٹوانے والے بچوں اور بڑوں کی فہرست کافی لمبی ہے۔ اس مقتل میں عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی مگر زیادہ تر بچے ہیں۔ یہ سب بے گناہ ہیں۔ گناہگار کون ہے؟ وہ لوگ جو پتنگ بازی کے بیہودہ اور جان لیوا کھیل کے شیدائی ہیں یا حکام بالا جو اب تک نہ تو کوئی جامع قانون سازی کر سکے اور نہ ہی اس پر پوری طرح عملدرآمد کروا سکے۔ پتنگ بازی تو پتہ نہیں کب سے ہو رہی تھی، مگر جب بسنت نے باقاعدہ تہوار کا درجہ پایا اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا دھوم دھام سے اس کی کوریج کرنے لگا تو یہ بھوت اپنی تمام تر کراہتوں اور خباثتوں کے ساتھ ناچنے لگا۔ سرکاری سرپرستی میں بسنتی منائی جانے لگی۔ پتنگ بازی ’گج وج‘ کے ہونے لگی۔ اس دوران سینکڑوں گردنیں کٹیں، کئی گھروں کے چراغ گل ہوئے، بہت سی گودیں اجڑیں، ان گنت جنازے اٹھے، جن کی جھولیاں اجڑیں انہوں نے خالی جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دیں۔ احتجاج ہوئے، پتنگ بازی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا مگر … یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ کٹی پتنگ کے ساتھ لہراتا نظر نہ آنے والا سانپ اب بھی گردنوں کو ڈس رہا ہے۔ آئے دن ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ چھٹی کے دن پتنگ بازی عام دیکھنے کو ملتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بڑے بڑے فارم ہائوس اور پرتعیش حویلیوں میں یہ شوق بغیر کسی خوف کے پورا کیا جاتا ہے۔ قانون کی گردن کہیں پیسہ دبوچ لیتا ہے تو کہیں اثرورسوخ، اور نتیجہ … نظر نہ آنے والی تلوار اپنا وار کرتی رہتی ہے۔ کہیں گردن کٹ جاتی ہے اور کہیں زخمی ہو جاتی ہے۔