پولیس مقدمات کے اندراج سے گریزاں اور جرم میں تحریف ؟

پولیس  مقدمات کے اندراج سے گریزاں اور جرم میں تحریف ؟

احسان شوکت ۔۔ 
پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی ۔یہ نعرہ تو آپ نے ضرور سنا ہو گا؟ مگر اس نعرے کی حقیقت بھی ہمارے سیاسی لیڈروں کے دعوؤں جیسی ہی ہے ۔ہمارے محکمہ پولیس کا اس نعرے سے عملاََ دوردورتک کا بھی واسطہ بھی نہیں ہے ۔ پولیس کا سب سے بڑا فرض جرائم پر قابو پانا اور امن و مان قائم رکھنا ہے ۔مگر ہمارے پولیس حکام جرائم پر قابو پانے اور جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کی بجائے صرف و صرف دلفریب نعروں سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے اور جرائم کو چھپاکر،مقدمات درج نہ کرنے اور بلندوبانگ دعوے کر کے اپنی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔مگر اصل صورتحال یہ ہے کہ قتل و غارت گری، ڈکیتی، چوری ،راہزنی ،غواء ، اغواء برائے تاوان،خواتین و بچوں سے زیادتی ،گینگ ریپ سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے۔ ڈاکوؤں کی واردوتیں دیکھیں تو لگتا ہے کہ بڑے شہروں خصوصاََ صوبائی دارالحکومت لاہور ’’ڈاکو راج‘‘کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے ۔شائد ہی کوئی فیملی ہو جو کہ ڈاکوؤںکا شکار نہ بنی ہو ۔لوگ اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔ہر وقت دل میں کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اب کے اب لٹے۔یہ صورتحال انتہائی تشویشناک سہی مگراس سے بھی  ا فسوسناک رویہ ہماری پولیس کا ہے ۔ پولیس ڈاکووں کے ہاتھوں لٹنے والے شہری کی بات تک نہیں سنتی کیونکہ اس سے متعلقہ پولیس کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ پولیس کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ مقدمہ درج نہ کیا جائے۔متاثرہ شہری کو ٹرخا دیا جاتا ہے یا پھر تھانے کے اتنے چکر لگوائے جاتے ہیںکہ متاثرہ شہری خوار ہو کر مقدمہ درج کرانے سے توبہ کر لے۔لیکن اگر سفارش یا پھر ڈھیٹ قسم کے شہری سے جان نہ چھوٹے تو پولیس کی طرف سے لاکھوں کی واردات پر چند ہزار کے نقصان کا اور ڈکیتی کی بجائے چوری یا جرم میں تحریف کر کے مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے ۔پولیس اغواء برائے تاوان کا مقدمہ درج کرنے سے گریزاں کرتی ہے جبکہ بچوں اور خواتین کے اغواء پر مقدمہ درج کرنے کی بجائے صرف گمشدگی کی رپٹ درج کر کے معاملہ نپٹا دیتی ہے ۔مغلپورہ میں بچی (س) زیادتی کیس میں ،جس دن بچی اغواء ہوئی تھی ۔اس روز ورثاء نے مقامی تھانے میں اطلاع کی تھی مگر پولیس نے کوئی کارروائی  جس وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا۔اگر پولیس روائتی بے حسی کی بجائے ا سی وقت ایکشن لے لیتی تو شائد یہ سانحہ رونما ہی نہ ہوتا۔مگرپولیس حکام کے نزدیک جرائم کو چھپاکراورمقدمات درج نہ کرنے  کر کے اپنی کارکردگی پیش کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔پولیس کی اس روش کی وجہ سے مجرمان کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے اور پولیس کی گرفت سے بچنے کے علاوہ ان کے حوصلے بھی بلند ہو رہے ہیں اور اس وجہ سے آج صورتحال یہ ہے کہ صوبہ بھر میں قتل و غارت گری، ڈکیتی،چوری ،خواتین و بچوں سے زیادتی ،گینگ ریپ ،اغواء اور اغواء برائے تاوان سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ۔ہے ۔مگر پولیس حکام کی جادوگری ملاحظہ فرمائیں کہ پولیس حکام کی طرف سے آئی جی پنجاب پولیس خان بیگ کو سال 2012,13 ء میں پہلے 9ماہ میں ہونے والے کرائم کے تقابلی جائزے پر مبنی پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق رواں سال 2013 ء میں گزشتہ سال2012 ء کے مقابلے میںجرائم کے 7111  کم واقعات ہوئے ہیں ۔آئی جی کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق 2012میں پہلے 9ماہ کے دوران تمام رپورٹ کئے گئے کرائم کی تعداد 306585 تھی، جو رواں سال2013 ء میں7111))کمی کے ساتھ 299474 رہ گئی۔ 2012ء میں 9ماہ میں ہونے والے جرائم برخلاف اشخاص (Crime against person) میں رجسٹرڈکیسسز کی تعداد 47768تھی، جو رواں سال(3778)کمی کے ساتھ2013 ء میں 43990 رہ گئی۔ 2012ء میں پہلے 9ماہ میں ہونے والے جرائم برخلاف املاک (Crime against Property)کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 79664تھی ،جورواں سال (4803) کمی کے ساتھ 74861رہ گئی۔ 2012ء میں متفرق کرائم کی تعداد80631 کیسسزرجسٹرڈ ہوئے تھے، جورواں سال(1123) کمی کے ساتھ79508 رہ گئی ۔ 2012ء میں قتل کے رجسٹرڈ مقدمات کی تعداد4912 تھی، جورواں سال(158) کمی کے ساتھ4754 رہ گئی۔2012ء میںاغواء برائے تاوان کے مقدمات کی تعداد115 تھی، جورواں سال(10)کمی کے ساتھ105 رہ گئی۔ 2012میںزیادتی کے مقدمات کل کی تعداد2070 تھی، جورواں سال(48)کمی کے ساتھ2022 رہ گئی۔2012میںاجتمائی زیادتی کے173  مقدمات درج ہوئے، جورواں سال(23)کمی کے ساتھ150رہ گئے۔ 2012ء میںڈکیتی کے مقدمات کی تعداد2387 تھی، جورواں سال(409) کمی کے ساتھ1978 رہ گئی۔  2012میںراہزنی کے مقدمات کی تعداد14052 تھی، جورواں سال(806)کمی کے ساتھ 13246 رہ گئی۔2012ء میںڈکیتی کے مقدمات کی تعداد2387ء تھی، جورواں سال(409)کمی کے ساتھ1978رہ گئی۔  2012میںمویشی چوری کے مقدمات کی تعداد6268تھی، جورواں سال2013ء میں(859)کمی کے ساتھ5409رہ گئی۔کتنی مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ قتل و غارت گری، ڈکیتی، چوری ،راہزنی ،غواء ، اغواء برائے تاوان،خواتین و بچوں سے زیادتی ،گینگ ریپ سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے مگر پولیس ریکارڈ کے مطابق جرائم میں گزشتہ سال کی نسبت خاطر خواہ کمی آئی ہے۔سب اعلی حکام اس صورتحال سے آگاہ ہیں مگر پولیس جرائم کو چھپانے اور مقدمات درج نہ کرنے کی پالیسی پر پیرائے عمل ہے اور پولیس حکام الٹا، کم مقدمات درج ہونا ظاہر کر کے اپنی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مقدمات کی فری رجسٹریشن پولیس کے لئے ایک انتہائی ڈراؤنا خواب ہے۔اس سے ان کی کارکردگی کا پول جو کھل جائے گا۔  
عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کی من مانیاں 
شہری پولیس کی جانب سے مقدمات درج نہ کرنے پر ضابطہ فوجداری کی دفعات 22اے، 22بی کے تحت عدالتوں میں درخواست دائر کرتے ہیں۔ 22اے، 22کے تحت درخواستیں پہلے ہائی کورٹ میں دائر کی جاتی تھیں مگر مشرف دور میں 2002ء میں یہ اختیارات سیشن عدالتوں کو بھی دے دیے گئے۔ جس کے بعد پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج میں انکار و تاخیر پر 22اے اور 22بی کے تحت شہری سیشن عدالتوں سے بھی رجوع کرنے لگے مگر سیشن عدالتیں جو احکامات ان درخواستیں پر جاری کرتے ہیں۔ ان کی حیثیت جوڈیشل کی بجائے ایڈمنسٹریٹو یعنی انتظامی آرڈرز کی ہے جس کی حکم عدولی پر پولیس حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ سیشن عدالتیں زیادہ تر مقدمات میں پولیس حکام کو احکامات جاری کرتی ہیں کہ وہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 154کے تحت درخواست گزار (مدعی) کا بیان ریکارڈ کر کے قانون کے مطابق کارروائی کریں جس سے پولیس حکام کو ان احکامات میں من مانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ قانون کے مطابق کی کارروائی کی بجائے اپنے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔ اس ضابطے میں آئینی ماہر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سیشن عدالتوں کے احکامات کو بھی جوڈیشل بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ جسٹس آف پیس کا مقصد اس وقت پورا ہو سکتا ہے جب شہریوں کو سیشن عدالتوں میں 22اے اور 22بی کے تحت دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلوں پر عملدرآمد بھی نظر آئے۔ اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں قانون سازی کرے اور ان عدالتوں کے احکامات کو جوڈیشل احکامات کا درجہ ملے۔ ورنہ 22اے، 22بی کے تحت دائر درخواستیں ماضی کی طرح صرف ہائی کورٹ کی سطح پر ہی دائر ہونی چاہئیں کیونکہ ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت رٹ درخواستیں سنتی ہے۔ اگر ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہو تو توہین عدالت کی کارورائی کی جاتی ہے۔ اس لئے سیشن کورٹ میں 22اے، 22بی کے تحت دائر درخواستوں میں لوگوں کو وہ ریلیف نہیں ملتا جس کی توقع کی جاتی ہے جبکہ فیصلے کے باوجود پولیس ہمیشہ اپنی من مانی ہی کرتی ہے۔ 
پولیس کی ہٹ دھرمی سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ گیا
لاہور کے 84تھانوں میں مقدمات درج نہ کرنے کی شکایات اتنی زیادہ ہیں کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کے خصوصی طور پر تین ایڈیشنل سیشن ججز کو پولیس کی جانب سے مقدمات درج نہ کرنے کے حوالے سے شہریوں کی درخواستوں کی شنوائی کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ جن میں ایڈیشنل سیشن جج صفدر علی بھٹی، ایڈیشنل سیشن جج راجہ غضنفر علی خان اور ایڈیشنل سیشن جج طارق محمود (ضرغام) کو شہر کے 84تھانوں کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مقدمات کے اندراج کے حوالے سے درخواستوں کی شنوائی کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ ان ججوں کے پاس روزانہ ڈیڑھ سو سے لے کر ایک سو پچھتر کے درمیان شہریوں کی درخواستوں کی سماعت ہوتی ہے۔ شہریوں کی طرف سے مقدمات کے اندراج نہ کرنے پر پولیس کے حوالے سے اتنی زیادہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ گذشتہ ماہ اکتوبر کے دوران شہریوں نے سیشن کورٹ میں 33ہزار 8سو 70درخواستیں پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے کے حوالے سے دائر کیں اور مقدمہ کے اندراج کے لئے رجوع کیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے مقدمات درج نہ کرنے کے حوالے سے عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔