اسلام آباد کی سیکیورٹی ۔۔۔ چیلنج ہی چیلنج

عزیز علوی  ۔۔۔
وفاقی دارالحکومت کیلئے سیکیورٹی انتظامات تیزی سے گھبیر سے گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں پولیس کی ساری توانائیاں ہی شہر کی سیکیورٹی کی انجام دہی پر صرف ہونے لگی ہیں فورس کی کمی بھی مسائل پیدا کر رہی ہے آئی جی اسلام آباد سکندر حیات نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو بھی فورس کی کمی سے مطلع تو کردیا اور وزیر داخلہ نے ہاں بھی کر دی تھی تاہم ابھی تک فورس میں نئی بھرتی کے خدوخال طے ہونا باقی ہیں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے دور میں اسلام آباد کیلئےSAFE CITY پروگرام تشکیل دینے کا وعدہ ہوا جس کے تحت چین سے ایک ارب روپے کے خرچ سے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی سیکیورٹی چیکنگ کیلئے بڑا سکینر منگوا گیا جسے سابق آئی جی کلیم امام نے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کیلئے موثر ہتھیار بھی قرار دیا لیکن وزارت داخلہ نے اس وقت چین سے منگوائے گئے سیکیورٹی سکینر کے تیکنیکی مراحل طے نہیں کئے تھے جس کی وجہ سے ماہرین کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر یہ سکینر بغیر حفاظتی مراحل طے کئے استعمال ہوا تو اس کے نیچے سے گذرنے والی گاڑیوں میں سوار افراد کینسر جیسے مرض کا شکار ہوجائیں گے چنانچہ وہ سکینر پولیس نے ہٹا دیا اور دوبارہ سے گاڑیوں کی چیکنگ مینوئل ہی شروع کر دی گئی اسلام آباد کے داخلی راستوں کے ساتھ خارجی راستوں پر بھی ناکے لگا کر شہریوں کی پریشانی بڑہائی گئی تھی لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزارت سنبھالتے ہی حکم جاری کیا کہ ایک تو ناکوں کی تعداد کم کی جائے اور دوسرا خارجی ناکے ختم کئے جائیں اس وقت اسلام آباد کی صورتحال یہ ہے کہ اس شہر کے باسی بھی دن بھر چیکنگ کے مراحل سے ہی گذرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس اور شہریوں کے درمیان کہیں نہ کہیں توں تکرار بھی چلتی رہتی ہے ایک ہی گاڑی کو ہر آنے والے ناکے پر جب روکا جائے گا تو اس سے شہریوں میں ردعمل آنا بھی فطری بات ہے پولیس روزانہ کی بنیاد پر جب گاڑیاں چیک کرتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس شہری کو کوئی ایسی پرچی نہیں دی جاتی کہ اس کی گاڑی چیک ہوچکی ہے تاہم اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم پولیس کو اپنے ناکوں پر شہریوں کی سہولت کیلئے کوئی نہ کوئی طریقہ تو وضع کرنا ہی چاہئے اسلام آباد میں جو نئی ہائوسنگ سکیمیں بنی ہیں ان کی وجہ سے آبادی میں کئی گنا اضاٖفہ بھی ہوگیا ہے یہی وجہ ہے جہاں جہاں پولیس چوکی تھی وہ سب تھانے کا روپ دھار چکی ہیں لیکن چوری چکاری کی وارداتیں بھی انہی آبادیوں میں زیادہ ہیں سب سے زیادہ وارداتیں گھروں میں کام کاج کیلئے آنے والی ماسیاں کر رہی ہیں جو گھریلو خواتین کو چالاکی دکھانے میں اپنی مثال خود ہی ہیں ہر لٹنے والا گھر ان ماسیوں کی چکنی چپڑی باتوں کی جو داستانیں پولیس کو بتاتا ہے اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ ہمارے ہاں گلیوں بازاروں میں چلنے پھرنے والوں پر بھی کوئی چیک ہی نہیں ایف الیون سیکٹر میں تو گھروں کے اندر سے گیٹوں کے کنڈے کاٹ کرگاڑیاں چوری ہونے کی وارداتیں اس حد تک بڑھ رہی تھیں کہ وہاں کے مکینوں نے سابق دور حکومت میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے ڈالا تھا آئی جی اسلام آباد سکندر حیات نے نوائے وقت کو یہ تک بتایا تھا کہ جتنی گاڑیاں پورے اسلام آباد میں چوری ہوتی ہیں ان کے برابر گاڑیاں صرف تھانہ مارگلہ کے علاقے سے چوری ہوئی ہیں جس کی پولیس کی سطح پر تفتیش بھی کی جا رہی ہے اسلام آباد کے عوام بار بار یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے جان و مال کی سیکیورٹی پولیس کو اپنی اولین ترجیح بنانی چاہئے جس پر موجودہ دور میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خود کئی ترجیحات مرتب کی ہیں اگر ان پر عملدرآمد ہونا شروع ہوجائے اور گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا کوئی نظام وضع کرلیا جائے تو یقیناً عوام کو بڑا ریلیف محسوس ہوگا۔