آرٹیکل 6کیا ہے ۔۔۔ آئین کیا کہتا ہے

محمد ریاض اختر  .....
 -1 کوئی شخص دستور کی تنسیخ کرے یا زیر و زبر (تباہ) کرے یا معطل کرے یا التواء میں رکھے یا تنسیخ یا تذلیل کرے یا ایسا کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرے‘ تخریب کاری کرے‘ یا تخریب کاری کی کوشش کرے یا سازش کرے یا معطل یا التواء میں رکھنے کی سازش بذریعہ طاقت کے استعمال یا طاقت کے دکھاوے سے یا دیگر غیر آئینی ذریعہ سے کرے تو وہ سنگین غداری کا مجرم کہلائے گا-2 کوئی ایسا شخص جو شق نمبر (1) میں مندرج افعال میں کسی اور کی مدد یا معاونت کرے-3 (یا شریک کار بنے) بعینہ غداری کا مجرم ہو گا(2 الف) سنگین غداری کے کسی فعل کو جس کا ذکر ضمن نمبر (1) میں کیا گیا ہے کوئی بھی عدالت بشمول سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ‘ جائز قرار نہیں دے گی۔
مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔ 
وضاحت: مملکت کے وقار و وجود کے خلاف قول و فعل کو غداری کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد کی معاونت بھی غداری کے ضمن میں آتی ہے۔ سزا کا دیا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون شکنی کی جرات نہ کرے۔ اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کی صدر مملکت نے 26 دسمبر 1973ء کو سنگین غداری کے مرتکب افراد کو سزائے موت دینے کے قانون کی توثیق کی یہ تو تھی آئین کی بات…وفاقی وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا  1999 میں ہماری حکومت کے خلاف بغاوت کر کے مشرف اقتدارمیں آئے تھے مگر میاں نواز شریف نے ذاتی رنجش اور تلخی جو مشرف کے ساتھ تھی وہ معاف کر دی گئی مگر آئین اور قانون کی جس طرح خلاف ورزی ہوئی اور پاکستان کی عدلیہ کو پابند سلاسل کیا گیا‘ ججز کے بال نوچے گئے وہ آئین اور قانون کے سامنے جوابدہ ہیں‘ ایف آئی اے کی ٹیم میں چار ایسے لوگ لگائے گئے جو انتہائی اچھی شہرت کے مالک تھے ان میں سے ایک ستمبر میں ریٹائرڈ ہو گئے تھے ہم نے انصاف کے تقاضا کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ مشرف ایف آئی اے کی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے انکاری تھے اور بیماری کی بات کرتے تھے مگر میڈیکل سرٹیفکیٹ نہ پیش کر سکے یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ 5 سال اقتدار میں رہنے والوں نے پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا تھا ان کے اب بیانات دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ہے حکومت اور وزیر داخلہ یا وزارت داخلہ کے کسی فرد نے بھی ایف آئی اے کی ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے… کہا جاتا ہے کہ کوئی غریب آدمی جرم کرے تو کارروائی کی جاتی ہے مگر بڑے آدمی کے خلاف کارروائی نہیں وہتی ہے ہم نے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ پر کوئی بیرونی دباؤ نہیں آسکتا ہے۔ عزت اور ذلت اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پیپلز پارٹی اور نگران حکومت نے اصغر خان کیس کے حوالے سے کارروائی نہیں کی ہم آئندہ دو تین دنوں میں اصغر خان کیس کی تحقیقات بھی کروائیں گے۔ اس ساری صورت حال پر سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ حکومت کی مذکورہ کارروائی سانحہ راولپنڈی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انہوں نے دیگر مقدمات کا سامنا کیا۔ ان شاء اﷲ اس بار بھی وہ مقدمات کا سامنا کریں گے۔ ان کا جینا مرنا پاکستان سے ہے۔ نوائے وقت نے جب آل پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے سینئر نائب صدر راجہ محمد جہانگیر سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ دراصل حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ پاکستان اندرون و بیرون جن مسائل کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں حکومت کا کام پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو ساتھ لے کر چلنا ہے تاکہ طالبان مذاکرات‘ بے روزگاری اور  امن و امان اور گیس و بجلی بحران جیسے مسائل کے حل کے نتیجہ خیز کوششیں کی جاسکے۔ لیکن حکومت لگتا ہے کہ 90 کی سیاست سے باہر نہیں آنا چاہتی۔ راولپنڈی میں یوم عاشورہ کے دن شرارتی عناصر نے جو کارروائی کی جس کے نتیجے میں 11 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ شہر میں املاک کا نقصان پانچ چھ ارب روپے کا بتایا گیا۔ کئی دن تک شہر اور شہریوں کو کرفیو  سے اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری قوم کی نظریں راولپنڈی شہر کی طرف مرکوز ہیں جبکہ حکومت نان ایشو پر عوام کو الجھا کر نہ جانے ملک و قوم کی کون سی خدمت کر رہی ہے؟ اس سے پہلے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے ’’شہادت‘‘ کا نیا فلسفہ پیش کیا جس سے شہدائے وطن کے خاندانوں کی دل آزاری کی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اصل ایشوز سے نظریں چراتے رہیں گے۔ ’’بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں سے تک پہنچے‘‘