مظفرگڑھ : جعلی پیر کے مشورے پر لے پالک بیٹی 2 گھنٹے کیلئے زندہ دفن کردی

مظفرگڑھ : جعلی پیر کے مشورے پر لے پالک بیٹی 2 گھنٹے کیلئے زندہ دفن کردی

مظفرگڑھ+ بستی اللہ بخش (نمائندہ نوائے وقت) مظفرگڑھ کے علاقے میں اولاد نہ ہونے پر جعلی پیر کے مشورے پر ہمسائے نے 6 سالہ لے پالک بیٹی کو جنازہ پڑھ کے 2 گھنٹے تک زندہ دفن کردیا۔ تفصیل کے مطابق نواحی موضع بستی عارف میں اولاد نہ ہونے پر خالد نامی جعلی پیر کے مشورے سے محمد اکرم اور اسکی بیوی فرحت نے قریبی رشتہ دار محمداعجاز سے اسکی 6 سالہ بیٹی زہرہ بی بی کو پالنے کیلئے لیا مگر کچھ عرصہ بعد جب بچی اپنے والدین کو ملنے کیلئے گھر آئی تو اسکے جسم سے عجیب خوشبو آرہی تھی جس پر انہیں تشویش ہوئی اور بچی کی طبیعت روز بروز خراب ہوتی گئی جس پر بچی کے حقیقی والدین اسے واپس اپنے گھر لے آئے۔ زہرہ بی بی نے والدین کو بتایا کہ مجھے میرے لے پالک والدین ہڈیوں کے پانی اور مختلف خوشبو ئوں سے نہلاتے تھے اور خواشبودار تیل بھی روازانہ لگا تے تھے اور یہ سب ڈبہ پیر خالد کے مشورے سے پر ہوتا رہا جبکہ زہرہ کے والدین نے بتایا کہ زہرہ بی بی کو ظالم لے پالک باپ اکرم نے دو گھنٹے کیلئے زندہ درگور کیا اس سے قبل بچی کو بے ہوشی کا انجکشن لگایا گیا اور مقامی مولوی عبدالرزاق نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا اس موقع پر اہل علاقہ نے شدید احتجاج کیا جبکہ پولیس تھانہ جتوئی کو متاثرین نے تحریری درخواست دی جس پر انہوں نے کاروائی کرتے ہوئے جعلی پیر خالد نائی کو گرفتار کرلیا مگر تھانے میں اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ڈبہ پیر خالد نائی کو متاثرہ بچی نے سب کے سامنے شناخت کر لیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔لاہور سے خبرنگار کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مظفرگڑھ کے علاقے جتوئی میں 6 سالہ بچی کو زندہ دفن کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی پی او مظفرگڑھ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔