شیخوپورہ: طلاق کی رنجش پر دھاوا، خواتین پر تشدد، گھسیٹتے رہے

شیخوپورہ: طلاق کی رنجش پر دھاوا، خواتین پر تشدد، گھسیٹتے رہے

شیخوپورہ + فاروق آباد(نامہ نگار خصوصی + نامہ نگار)تھانہ سٹی فاروق آبا د کے علا قہ محلہ رسول پورہ میں سعودی عرب میں مقیم نوجوان کے سسرالی رشتہ داروں نے طلاق کی رنجش پر پولیس کی مدد سے رات کی تاریکی میں گھر پر دھاوا بول کر خواتین پر وحشیانہ تشدد کیا اور نیم برہنہ کرکے گھر میں گھسیٹتے رہے بال نوچ ڈالے، تشدد سے نوجوان کی والدہ کے ہا تھ کی انگلیاں ٹوٹ گئی جبکہ اس کی حاملہ بھاوج کی حالت غیر ہو گئی۔ پولیس اور ملزمان کی اس مشترکہ کارروائی پر علاقہ کے لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ درخواست کے باوجود پولیس نے ذمہ داران پولیس اہلکاروں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق محلہ رسول پورہ کے محنت کش محمد انور کے بیٹے غلام عباس کی شادی وزیر آبا د کی رہائشی ریحانہ کوثر سے ہوئی اس دوران اس کا شوہر سعودی عرب چلا گیا اور میاں بیوی میں اس بات پر تنازعہ کھڑا ہو گیا تاہم بات علیحدگی تک پہنچ گئی جس پر اس کے سسرالی رشتہ داروں بشیر، ریاست علی، رضوان، عاشق وغیرہ نے تھا نہ سٹی پولیسسے ساز باز ہو کے دیگر اہلکاروں کی مدد سے محمد انور کے گھر دھاوا بول دیا اور گھر میں موجود اسکی بیوی عائشہ بی بی، بہو آمنہ بی بی، فوزیہ بی بی پر ڈنڈوں،سوٹوں، گھونسوں مکوں سے تشدد شروع کردیا جس کے نتیجہ میں عائشہ بی بی کے ہاتھوں کی انگلیاں ٹوٹ گئی اور بہو آمنہ بی بی کا حمل متاثر ہوا، ملزمان خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھر کے صحن میں گھسیٹے رہے جس سے وہ نیم برہنہ ہو گئی اور عائشہ بی بی کے سر کے بال بھی نوچ ڈالے۔ اس دوران پولیس نے محمد انور اور اس کی بیوی عائشہ بی بی کو تھانہ میں بند کردیا اور خود اپنی نگرانی میں گھر سے طلائی زیورات، فرنیچر، ٹی وی اور دیگر سامان کو زبردستی ٹرک میں ڈال کر لے گئے اور باقی سامان کو توڑ پھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے خلاف علاقہ کے لوگ سراپا احتجاج بن گئے اور تھانہ میں تحریری درخواست کے باجود ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لائی جاسکی۔ اس سلسلہ میں اے ایس آئی خالد محمود نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ 15کی کال پر وہاں پہنچے تھے اور اس سے پہلے دونوں فریقوں میں جھگڑا چل رہا تھا پولیس کا کردار غیر جانبدار ہے۔