طاہرالقادری کو ”سیمی پوپ“ کہنے پر مسیحی پارٹی نے وزیر داخلہ کے خلاف کارروائی کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج طارق محمود ضرغام نے پاکستان مسیحی پارٹی کے چیئرمین پرویز اقبال کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے پوپ بینی ڈکٹ سولہواں اور پادری مسیحی علماءکا مذاق اڑانے کے خلاف درخواست پر ایس ایچ او نشتر کالونی سے 28 فروری کو جواب طلب کر لیا۔ محمد یونس شیخ ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے نجی ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کو ”سیمی پوپ“ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ پوپ کی ٹوپی تھوڑی اونچی ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ٹوپی تھوڑی نیچی ہے اور اس کے گلے میں چین دیکھتے ہوئے لگتا ہے یہ پادری ہے۔