لاہور ہائیکورٹ نے فورٹ عباس میں ماں، بیٹی سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے فورٹ عباس میں باپ کے سامنے 15 سالہ بیٹی اور بیوی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولنگر کو متعلقہ افراد کے خلاف وقوعہ کی غیر جانبدار اور شفاف کارروائی کرنے اور پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبرکے مطابق نواحی گاﺅں چک نمبر257 ایچ کا رہائشی محنت کش محمد شکور اپنی بیوی اور جواں سالہ بیٹی کے ہمراہ گھر میں سو رہا تھا کہ رات گیارہ بجے پانچ نقاب پوش افراد اسکے گھر میں داخل ہوئے اور محمد شکورکو چار پائی کے ساتھ باندھ دیا اور اسکے سامنے اسکی بیوی اور بیٹی کے ساتھ زیادتی کرتے رہے جس کی وجہ سے اسکی بیٹی بے ہوش ہوگئی تو ملزمان نے اسکے گھر کی تلاشی لینا شروع کر دی اور جاتے جاتے اسکے گھر سے گندم اور موبائل لے کر فرار ہو گئے۔ متاثرہ خاندان نے ایک ملزم شاہد عرف شادی کو پہچان لیا تھا۔ مذکورہ شرمناک واقعہ پر پورا گاﺅں ڈی ایس پی فورٹ عباس آفس کے سامنے سراپا احتجاج بن گیا جس پر ڈی ایس پی نے متعلقہ پولیس کو جلد از جلد ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ پولیس نے چھاپہ مار کر ملزم شاہد کو حراست میں لے لیا، جس نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا۔ ملزم کی نشاندہی پر دیگر ملزمان عابد اور عرفان کو بھی گرفتار کر لیا گیا تاہم دو ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔